Al-Risala · June 2004 · page 26

جوابات

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۶

مطالعہ کے مطابق، موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کے درمیان جہاد کے نام پر بے شمار ہنگامے جاری رہے۔ مگر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جہاد کے نام پر کی جانے والی یہ تمام سرگرمیاں کھوئے ہوئے جہاد کے ہم معنی تھیں نہ کہ ملے ہوئے پر جہاد کے ہم معنی۔

امیر کا بل کے تعاون سے شاہ ولی اللہ کا جہاد، سلطان ٹیپو کا جہاد، شہیدین کا جہاد، علماء دیوبند کا جہاد، علی برادران کا احیاء خلافت کے نام پر جہاد۔ قیام پاکستان کے لیے جہاد، آر ایس ایس کے خلاف جہاد، بابری مسجد کے لیے جہاد، وغیرہ وغیرہ، سب کے سب کھوئے ہوئے پر جہاد کی صورتیں ہیں۔ اس لیے یہ تمام جہادی قربانیاں حبط اعمال کا شکار ہوگئیں۔

یہی معاملہ دیگر مقامات پر کیے جانے والے جہاد کا ہے۔ مثلاً فلسطین کا جہاد، بوسنیا کا جہاد، چیچنیا کا جہاد، فلپائن کا جہاد، اراکان کا جہاد، کشمیر کا جہاد وغیرہ، سب کے سب کھوئے ہوئے پر جہاد کے ہم معنی تھا۔ اس لیے امت کو ان کے ذریعہ تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا۔ میرے علم کے مطابق، اس پوری مدت میں پوری مسلم دنیا میں جہاد کے نام پر کیا جانے والا کوئی بھی عمل ایسا نہیں جس کو ملے ہوئے پر جہاد کا نام دیا جاسکے۔

اس معاملہ میں اب اصل ضرورت پورے معاملہ پر نظر ثانی (reassessment) کی ہے، نہ یہ کہ اپنی ناکامی کو دوسروں کے خانہ میں ڈال کر مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم چلائی جائے ۔ زندگی کی ایک سنگین حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کو اپنی غلطی کی قیمت خود بھگتنی پڑتی ہے، ایک کی غلطی کی قیمت کوئی دوسرا شخص کبھی بھگتنے والا نہیں۔ یہ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی الف ب ہے، اور عجیب بات ہے کہ ساری مسلم دنیا کے مسلم رہنماؤں میں غالباً کوئی ایک شخص نہیں جو اس حقیقت کو شعوری طور پر جانتا ہو، خواہ وہ عربی داں مسلمان ہو یا انگریزی داں مسلمان۔ ۷۔ اسلام میں جہاد (بمعنیٰ قتال) کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ برائے دفاع ہے۔ دفاع کے سوا کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے جنگ چھیڑنا اسلام میں جائز نہیں۔ اور دفاع کی یہ جنگ اعلان کی لازمی شرط کے ساتھ صرف ایک قائم شدہ مسلم حکومت ہی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page