Al-Risala · June 2004 · page 27

جوابات

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۷

میں گوریلا جنگ، پراکسی جنگ، جارحانہ جنگ، بلا اعلان جنگ سب ناجائز ہیں۔

۸۔ آٹھویں سوال کے بارے میں کہوں گا کہ اس کے دفاع کی صورت صرف ایک ، اور وہ یہ کہ مسلمان خود اپنی طرف سے ان تمام پرتشدد سرگرمیوں کو یکسر بند کر دیں جو موجودہ زمانہ میں جہاد کے نام پر چل رہی ہیں۔ مذکورہ مسئلہ صرف مسلمانوں کے خود ساختہ جہاد کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس خود ساختہ جہاد کے ختم ہوتے ہی مذکورہ مسئلہ بھی اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ۹۔ اسلام کے پاکیزہ نظریہ جہاد کو داغ دار کرنے والے خود مسلمان ہیں۔ یہ دراصل مسلمان ہیں جنہوں نے اسلامی جہاد کی تصویر کو اپنی غلط روش سے بگاڑا ہے۔ اس مسئلہ کا حل بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنی غلط روش کو بند کر دیں۔ اس کے بعد دوسروں کو کسی سازش کا موقع ہی نہ ملے۔ ۱۰۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ میں کسی بھی مقام پر جہاد بمعنٰی قتال) کی شرائط پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ اور اگر بالفرض کسی مقام پر یہ شرائط پوری ہو رہی ہوں تب بھی غیر حکومتی تنظیموں کے لیے جہاد کرنا ہرگز جائز نہیں۔ کسی کے نزدیک اگر مسلم حکومتیں اپنا فرض پورا نہ کر رہی ہوں تب بھی اس عذر کو لے کر کسی کے لیے بطور خود جہاد چھیڑ دینا جائز نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں عام مسلمانوں کے لیے صبر ہے نہ کہ خود سے جنگ چھیڑنا۔

قرآن کے مطابق، جہاد وہ ہے جو فی سبیل اللہ ہو۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمان جو جہاد کر رہے ہیں وہ سب کا سب فی سبیل القوم ہے۔ وہ منفی جذبہ کے تحت کیا جانے والا عمل ہے نہ کہ مثبت جذبہ کے تحت کیا جانے والا عمل۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ ۱۱۔ سماجی مسائل کے بارے میں مدارس اسلامیہ کا بظاہر کوئی فکری رول براہ راست طور پر نہیں ہے۔ اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے کہ مدارس اسلامیہ کے سامنے شعوری طور پر سماجی فلاح کا کوئی نقشہ موجود تھا۔ تاہم اس سلسلہ میں بالواسطہ طور پر ان کی خدمات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً فتاویٰ کے ذریعہ رہنمائی۔ مساجد میں خطبات جمعہ، عوامی جلسہ میں خطاب، مختلف تقریبات کے دوران اساتذہ اور طلبہ کا عوام سے انٹرایکشن، شادی بیاہ جیسی رسموں میں شرکت کے دوران وعظ و نصیحت اور رسالوں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page