جوابات
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹
اختلاط نہیں کرتے۔ اس بنا پر ان کا حال یہ ہو گیا ہے کہ وہ نہ آج کی دنیا کو جانتے ہیں اور نہ جدید حالات کے مطابق اپنے ذہن کو تیار کرتے۔ اس علیحدگی پسندی کی بنا پر ان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ مدارس کے ماحول کو بدلا جائے۔ اور قدیم کے ساتھ جدید کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔
مدارس کو یا امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو مسائل درپیش ہیں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ان کا سبب دراصل اس بنیادی خامی تک جاتا ہے کہ مدارس میں جو سوچ دی جاتی ہے وہ بجائے خود درست نہیں۔ اسی فکری خامی کے نتیجہ میں وہ تمام چیزیں پیدا ہوئی ہیں جن کو مسائل کا نام دیا جاتا ہے۔ مسائل کا لفظ بظاہر خارجی اسباب کی طرف اشارہ کرتا ہے حالانکہ ہمارے مسائل تمام تر داخلی اسباب کا نتیجہ ہیں۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ملت کے موضوع پر ہزاروں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ عرب دنیا کے امیر شکیب ارسلان کی کتاب لما ذا تأخر المسلمون و تقدم غيرهم اور برصغیر ہند کے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين जैसी بے شمار کتابیں مختلف زبانوں میں چھپی ہیں۔ ان سب کا مشترک انداز یہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کے مسئلہ کا مطالعہ عروج اور زوال کی اصطلاحوں میں کیا گیا ہے۔
مطالعہ کا یہ طریقہ بلا شبہ غیر قرآنی ہے۔ قرآن کے مطابق، عروج اور زوال دونوں اضافی ہیں۔ قرآن کے نزدیک دونوں حالتیں ابتلاء کی حالتیں ہیں۔ یہ دونوں ہی کسی قوم کے لیے امتحان (test) کے پرچے ہیں۔ خدا کبھی کسی قوم کو غالب کرتا ہے اور کبھی اُس کو مغلوب کر دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ قوم جب کسی حالت میں مبتلا ہوئی تو اِس نے کس قسم کا رسپانس پیش کیا۔ (۷ مارچ ۲۰۰۳)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues