Al-Risala · June 2004 · page 30

Religions in the Indic Civilisation

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

ہر من روبنگھ (Herman Robongh) ایک برطانی اسکالر ہیں۔ آج کل وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحت ریسرچ کر رہے ہیں۔ اُن کی ریسرچ کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی کا اصول تفسیر ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے اور مذکورہ موضوع پر تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا حمید الدین فراہی نے بعض پہلوؤں سے قرآن کی خدمت کی ہے مگر اُن کا یہ کہنا کہ نظم قرآن قرآن فہمی کی اصل کلید ہے، قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ یہ تصور نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے، نہ صحابہ کے اقوال سے اور نہ مفسرین کے اصولِ تفسیر میں وہ ملتا ہے۔ مولانا فراہی کی یہ اجتہادی غلطی ہے کہ اُنہوں نے قرآن فہمی کے سلسلہ میں ایک جزئی پہلو کو کلی اہمیت دے دی۔

دہلی پیس سمٹ (Delhi Peace Summit) کی طرف سے نئی دہلی میں چنمیا مشن کے آڈیٹوریم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں انڈیا کے علاوہ باہر کے ملکوں کے لوگ شریک ہوئے ۔ اُس کا موضوع انٹرفیـتھ ڈائیلاگ تھا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس کے ۸ دسمبر ۲۰۰۳ کے سیشن میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات ہیں۔ اس کا فارمولا اسلام کی روشنی میں یہ ہے کہ ــــ ایک کی پیروی کرو اور بقیہ کا احترام کرو: Follow one and respect all. اگر بالفرض دو مذہبوں کے درمیان کسی وجہ سے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو اُس کو ہمیشہ امن کے دائرہ میں ہونا چاہئے۔ اُس کو کسی بھی حال میں یا کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ اس کانفرنس کی کارروائی پوری کی پوری انگریزی زبان میں ہوئی۔ چنمیا مشن آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ۱۸-۲۱ دسمبر کو ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا موضوع یہ تھا:

Religions in the Indic Civilisation

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page