Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۳۲
حاجیوں کو سفر حج پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ علماء نے اس کو درست مانا ہے۔ اس طرح سبسڈی موجودہ زمانہ میں ایک عُرف بن چکی ہے۔ اس عُرف کے مطابق، انڈیا کی گورنمنٹ اگر حاجیوں کو سبسڈی دیتی ہے تو یہ بھی اُسی طرح درست ہے جس طرح مسلم ملکوں میں سبسڈی درست ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ہندوستان کی حکومت غیر مسلم حکومت نہیں ہے وہ ایک قومی حکومت ہے۔ انڈیا کے مسلمان یکساں بنیاد پر اس قومی اور جمہوری حکومت میں شریک ہیں۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جیند ر کمار چودھری نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس میں ہندو۔ مسلم تعلقات اور انڈیا اور پاکستان کے تعلق کے حوالہ سے بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔ اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ برصغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر کوئی بھی صحیح معنوں میں تعمیری لیڈر پیدا نہیں ہوا جو مثبت معنوں میں کوئی گہرا کام کرے۔ آج ہم اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے درست ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ علم کو صرف علم کے روپ میں دیکھنا چاہئے، علم کو ہندو اور مسلمان بنانا درست نہیں۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ہندو یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی دونوں سے ہندو اور مسلم کا لفظ نکال دیا جائے اور اِس کو صرف بنارس یونیورسٹی اور علیگڑھ یونیورسٹی کہا جائے۔
بی بی سی لندن (bbc.co.uk) کی طرف سے مسٹر طفیل احمد کے دستخط سے ایک خط مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ صدر اسلامی مرکز کے نام ملا۔ اس میں ایک مضمون کی فرمائش کی گئی تھی جس کو وہ بی بی سی لندن کے ویب سائٹ پر شائع کریں گے۔ یہ مضمون انگریزی میں ایک ہزار لفظ میں مطلوب تھا۔ اُس کا عنوان یہ تھا:
Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
خط میں کہا گیا تھا کہ مضمون میں یہ بتایا جائے کہ کیا صوفی ازم مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کو ختم کر سکتا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues