Al-Risala · June 2004 · page 33

Relevance of Sufism in the Post-9/11 World

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۳۳

اس موضوع پر مطلوب مضمون تیار کر کے انہیں ۷ جنوری ۲۰۰۴ کو بھیج دیا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دوری نام نہاد سیاسی اسلام نے پیدا کی ہے اور صوفی اسلام بلاشبہ اس دوری کو ختم کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ صوفی ازم کو جدید تقاضوں کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اس آرٹیکل کو بی بی سی کی ویب سائٹ (bbc.co.uk) پر شائع کیا گیا۔

۸ ست سری، نئی دہلی میں ۱۵ ہزار گز کے ایریا میں جدید طرز پر ایک ہولسٹک سنٹر (Holistic Centre) بنایا گیا ہے۔ اس کے چیرمین ڈاکٹر بی کے مودی ہیں۔ اس کے افتتاح کے طور پر ۲ جنوری ۲۰۰۴ کو بڑے پیمانہ پر اس کے ہال میں ایک فنکشن کیا گیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کے طور پر بلایا گیا۔ وہاں انہوں نے مختلف مذہب کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے اسلام کے ریفرنس میں امن اور روحانیت کی اہمیت بیان کی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام مکمل معنوں میں امن کا مذہب ہے۔ اسلام کے نام پر تشدد کرنے سے کوئی تشدد اسلامی نہیں بن جاتا۔ تشدد بہر حال میں برا ہے۔ تشدد سے کبھی کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ ۹ اٹلی کی ایک مذہبی تنظیم ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: Association Culture Yogarmonia - اس کا صدر دفتر نوالے(Noale)میں (Noale) میں ہے۔ اس کے چیرمین اٹمبری ماریو (Atombri Morio) ہیں۔ اس تنظیم کے سات ذمہ داروں کا ایک وفد اپنے چیرمین کی قیادت میں ۵ جنوری ۲۰۰۳ کو اسلامی مرکز آیا اور تقریباً دو گھنٹہ رہا۔ انہوں نے اسلام اور روحانیت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی بات کی۔ آخر میں انہیں ایک مسنون دعا سنائی گئی ۔ اس کو انہوں نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دعا کو ہم اپنے اجتماعات میں پڑھیں گے۔ اُن کی فرمائش کے مطابق، یہ دعا تین طریقہ پر لکھ کر اُنہیں دی گئی۔ عربی متن، عربی الفاظ کو رومن رسم الخط میں اور پوری دعا کا انگریزی ترجمہ۔ وہ دعا یہ تھی: اللهم انت السلام و منك

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page