Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۳۵
ایک خط برادر محترم اے ۔ ایس شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر آپ سے بات ہوئی۔ آپ نے کہا کہ اجودھیا کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ آپ نے بتایا کہ آج کل مسلمان اس معاملہ کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ان کی جان اور مال اور عزت سب داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے لے کر اب تک ہزاروں مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ مال اور جائداد کا نقصان اتنا زیادہ ہوا ہے جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ان سب تباہیوں کے باوجود یہ مسئلہ اب تک ختم نہ ہو سکا بلکہ وہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان حالات میں اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔ اس ایک مسئلہ کی وجہ سے دس سال سے زیادہ مدت سے یہاں کے مسلمان سخت تباہی سے دوچار ہیں مگر ابھی تک کسی عالم نے اس مسئلہ کا شرعی حل نہیں بتایا۔
میں عرض کروں گا کہ اصل مسئلہ شرعی حل کی موجودگی کا نہیں ہے بلکہ شرعی حل کو قبول کرنے کا ہے۔ آج کل کے مسلمان اس مسئلہ پر اتنا زیادہ جذباتی ہو گئے ہیں کہ وہ شرعی حل کو سننے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حالانکہ دوسرے تمام مسائل کی طرح اس مسئلہ کا بھی شرعی حل موجود ہے اور عملاً عرب دنیا میں اس کو اختیار کیا جا چکا ہے۔
اس سلسلہ میں میں دو باتیں عرض کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ کسی مسئلہ کا حل عملی حالات کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے، نہ کہ نظری معیار کے اعتبار سے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے کے حالات میں اس مسئلہ کا ایک سادہ حل موجود تھا اور وہ حل حضرت عمر کے الفاظ میں یہ تھا: أميتوا الباطل بالصمت عنه (باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر)۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے اگر مسلمان یہ کرتے کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو سڑکوں پر نہ لاتے۔ وہ اس مسئلہ پر جلسہ جلوس، ریلی اور مارچ کا طریقہ اختیار نہ کرتے۔ ان کے جذباتی لیڈر اس قسم کی تقریریں نہ کرتے کہ بابری مسجد کو چھو کر تو دیکھو۔ اگر مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues