Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴
ایک خط
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ مہاراشٹر کے سفر کے دوران ۲۷ نومبر ۲۰۰۳ کو میں ناگپور پہنچا تھ۱۔ ۲۹ نومبر کو واپسی ہوئی۔ اس دوران کئی قیمتی قسم کے سبق آموز تجربے ہوئے۔ آپ ان تجربات کا ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
ا۔ آپ نے ناگپور شہر دکھایا۔ چار سال پہلے میں ناگپور آیا تھا۔ اب اس سفر میں اندازہ ہوا کہ اس مدت میں ناگپور شہر کے اندر بہت سی ترقیاں ہوئی ہیں۔ وہاں کی سڑکیں چوڑی کی گئی ہیں۔ صفائی کا خصوصی اہتمام ہے۔ ہر طرف ہریالی نظر آتی ہے۔ اس ترقیاتی کام سے ہر فرقہ کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ ترقی کے سلسلہ میں اصل اہمیت اچھے انفراسٹرکچر کی ہوتی ہے اور ناگپور کے لوگوں کو یہی چیز حاصل ہوئی۔
معلوم ہوا کہ یہ سارا کام ایک کمشنر نے انجام دیا ہے۔ اس نے نہایت حکمت کے ساتھ متعلقہ ذمہ داروں کو اپنے ساتھ لیا اور عوام کی تائید حاصل کی۔ اس کام کے لیے ورلڈ بینک سے مالیاتی امداد ملی تھی۔ اس طرح تین سال کی قلیل مدت میں ناگپور کا نقشہ بدل گیا۔ ضرورت ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر میں اسی طرح انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے۔ یہی قومی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اُس کو کھلا راستہ فراہم کر دیا جائے۔
۲۔ میں اس سے پہلے کئی بار ناگپور گیا ہوں۔ مگر ایک بات کا مجھے اب تک اندازہ نہ ہو سکا تھا۔ آپ نے اس بار اسے دکھایا۔ وہ یہ کہ ناگپور میں وہاں کے مسلمانوں کا ایک ایجوکیشنل ایمپائر موجود ہے۔ انجمن حامئی اسلام کے تحت قائم شدہ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اسی کا حصہ ہیں۔ جس کے موجودہ صدر جناب جسٹس ایم ایم قاضی ہیں۔ یہ سب چیزیں بلاشبہ خوشی کا باعث تھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues