نئی دہلی، 9 دسمبر ۲۰۰۳ دعاگو وحیدالدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۴۵
۳۔ ایک اور قابل ذکر چیز جو میں نے اس سفر میں پائی وہ خود آپ کی فیملی تھی۔ میں نے پایا کہ آپ کی فیملی میں ساس اور بہو جیسے جھگڑے نہیں ہیں۔ آپ کی فیملی ایک پرسکون فیملی ہے۔ آپ کی اہلیہ سے میں نے پوچھا تھا کہ کامیاب خاندانی زندگی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ: صبر و برداشت۔ میں سمجھتا ہوں کہ کامیاب خاندانی زندگی گزارنے کے لئے یہی واحد کارگر فارمولا ہے۔ ۴۔ چوتھی چیز وہ ہے جو آپ کے صاحب زادہ زبیر احمد اکبانی کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے کاروبار کو مینجیبیل لمیٹ (Manageable limit) کے اندر رکھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے ہم کو ذہنی سکون بھی ملا ہے اور کاروباری ترقی بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فارمولا ہر کاروباری آدمی کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ ۵۔ آپ کے گھر کی دیوار پر ایک قرآنی آیت لکھی ہوئی نظر آئی: ھٰذا من فضل ربی ليبلونى ء اشكر أم اكفر (النحل ۴۰) میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر لوگ جب گھر بناتے ہیں تو وہ اپنے گھر پر اس آیت کا صرف ایک حصہ (ھذا من فضل ربی) لکھتے ہیں۔ آپ نے اس کے برعکس پوری آیت لکھی ہے۔ آیت کا صرف ایک حصہ لکھنا قرآن کے اصل مفہوم کو واضح نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق، گھر یا مادی نفع جو اس دنیا میں کسی کو ملتا ہے وہ نوازش کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ جانچ کے طور پر ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر مادی چیز امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اُس کے ذریعہ خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آدمی اُس کو پا کر خدا کا شکر گزار بنایا وہ سرکش ہو گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان پر خدا کا یہ سب سے بڑا حق ہے کہ وہ ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اِس پر اس کا شکر ادا کرے۔ جو آدمی دل سے خدا کا شکر ادا کرے وہ امتحان میں کامیاب ہوا اور جس کے دل میں شکر کا جذبہ نہیں اُمڈاوہ اپنے امتحان میں نا کام ہو گیا۔ میرے تجربہ کے مطابق، آپ کا گھر وہ گھر تھا جہاں میں نے لوگوں کی زبان پر شکر کا چرچا پایا۔ جہاں افراد خانہ کے اندر یہ زندہ شعور موجود تھا کہ اگر نہ ملے ہوئے کو پانا چاہتے ہو تو پہلے ملے ہوئے پر دینے والے کا شکر ادا کرو۔ شکر در اصل مزید عطیہ کے لیے استحقاق کی حیثیت رکھتا ہے۔
نئی دہلی، 9 دسمبر ۲۰۰۳ دعاگو وحیدالدین
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues