وار دھا کا سفر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۵۳
وار دھا کا سفر
وار دھا (مہاراشٹر) میں ایک گاندھیائی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ مشہور صنعت کار جمنا لال بجاج کی یادگار میں تقریباً ۱۵ سال پہلے قائم کیا گیا۔ اس ادارہ کا نام یہ ہے: Institute of Gandhian Studies (Gopuri)
اس ادارہ کے تحت ۲۷۷۳ نومبر سے ۲ نومبر کو ایک کانفرنس ہوئی جس میں پانچ بڑے مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے ۔ ہر مذہب پر بحث و گفتگو کے لئے ایک پورا دن مخصوص کیا گیا تھا۔ راقم الحروف کو اس کانفرنس میں اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے بلایا گیا تھا۔ اس سفر کی روداد مختصر طور پر یہاں درج کی جاتی ہے۔
پچھلے دن (۲۱ نومبر) کو جمعہ کا دن تھا۔ میں نے جمعہ کی نماز نظام الدین میں تبلیغی مرکز کی مسجد میں پڑھی۔ اس مسجد میں تقریباً سو سال پہلے تبلیغی تحریک شروع کی گئی تھی۔ اس وقت یہ ایک چھوٹی سی مسجد کی حیثیت رکھتی تھی۔ ۱۹۷۴ تک یہی ڈھانچہ باقی رہا۔ مگر ۱۹۷۷ کے بعد اس میں غیر معمولی ترقی ہوئی ۔ اب یہاں مسجد اور تبلیغی مرکز اور کاشف العلوم کی صورت میں ایک وسیع کامپلکس تعمیر ہو چکا ہے۔ میں نے مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر کی منزل میں نماز پڑھی۔ گیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک تبلیغی بزرگ سے میں نے پوچھا کہ اس کی کتنی منزلیں ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ بیسمنٹ کو لے کر چھ منزل۔ (واضح ہو کہ ۱۹۷۴ میں یہ چھ منزلہ عمارت سرے سے موجود ہی نہ تھی)
اس طرح کے ہزاروں مسلم ادارے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں قائم ہیں۔ آزادی کے بعد ہر ادارے نے زبردست ترقی کی ہے۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی مدرسہ یا مسجد یا دینی ادارہ ایسا نہیں جس نے آزاد ہندوستان میں غیر معمولی ترقی نہ کی ہو۔ لیکن اس عظیم ترقیاتی واقعہ کو مسلمانوں کے اخباروں میں یا ان کے جلسوں اور تقریروں میں کبھی بتایا نہیں گیا۔ اس کے برعکس ہمارے تمام رہنماؤں اور دانشوروں نے جس خود ساختہ واقعہ کی خبر دی وہ صرف یہ تھی کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues