وار دھا کا سفر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۵۴
ہندوستان کے مسلمان تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔
1947ء سے لے کر اب تک مسلمانوں کے نااہل رہنما مسلمانوں کو یہ بتاتے رہے ہیں کہ ہندوستان میں وہ معاشی تباہ حالیکا شکار ہیں۔ میں نے باقاعدہ جائزہ کے تحت بار بار مسلمانوں کو بتانے کی کوشش کی کہ یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی حالت 1947ء کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔ یہ بات جس طرح شہروں کے بارہ میں درست ہے اُسی طرح وہ دیہاتوں کے بارہ میں بھی درست ہے۔
مثلاً میرا آبائی گاؤں بڑہریا (مشرقی یوپی) 1947ء میں ایک انتہائی پچھڑا ہوا گاؤں سمجھا جاتا تھا۔ پہلے اس گاؤں میں زیادہ تر کچے مکانات تھے۔ آج وہاں زیادہ تر پکے مکانات ہیں۔ آج وہاں سڑک، بجلی، ٹیلی فون، پبلک ٹرانسپورٹ جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ جب کہ 1947ء میں ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ آج اس گاؤں میں دینی مدرسہ کے علاوہ ایک معیاری اسکول قائم ہو چکا ہے جب کہ 1947ء میں اسکول کے نام سے کوئی چیز یہاں نہیں پائی جاتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح میں نے آزادی سے پہلے کی دہلی کو بھی دیکھا ہے اور اب میں 1967ء سے دلی میں رہتا ہوں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ 1947ء کے وقت دہلی کے مسلمانوں کا جو حال تھا اُس کے مقابلہ میں آج یہاں مسلمان معاشی اعتبار سے تقریباً سو گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہ ترقی اتنی نمایاں ہے کہ ہر جگہ اُس کو پختہ مکانوں کی کثرت، موٹر کاروں کی بھیڑ اور موبائل ٹیلی فون جیسی چیزوں کی صورت میں ہر مسلم علاقہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ میں سے کئی افراد نے میری اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ وہ ایسا کرتے ہیں کہ ملکی معیشت میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرق کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کو لے کر میرے نقطہ نظر کی تردید کرتے ہیں۔ یہ وہی غلط طریقہ ہے جس کو قرآن میں تلک اذا قسمۃ ضیزی (النجم 22) کہا گیا ہے۔ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ مسلمانوں نے ہندوؤں یا دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ معاشی ترقی کی ہے۔ میرے تقابل کا تعلق مسلمانوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues