No just cause can be advanced by terrorism.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۵۸
ہندوستانی ریلوے میں سب سے اعلیٰ درجہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں آرام و راحت کی ہر چیز موجود تھی مگر اس میں میرا سفر مسلسل طور پر بے آرامی میں طے ہوا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کہ میں ایک خوبصورت قید خانہ میں بند کر دیا گیا ہوں۔
اس بے آرامی کا سبب یہ تھا کہ ہمارے کیبن کی کھڑکیوں میں جو شیشہ لگا ہوا تھا وہ ہلکا رنگین تھا۔ اس بنا پر میں باہر کے مناظر کو صاف طور پر دیکھ نہیں سکتا تھا۔ ریل کا سفر عام طور پر ایمان افروز قدرتی مناظر کے درمیان ہوتا ہے۔ ہمارا یہ پورا سفر کھیتوں اور جنگلوں اور پہاڑوں کے درمیان ہو رہا تھا۔ کھڑکی کے باہر دور تک سر سبز مناظر پھیلے ہوئے تھے۔ قدرت کے سر سبز مناظر کو دیکھنا میرے لئے ایک خدائی تجربہ (divine experience) ہوتا ہے۔ یہ میری محبوب ترین چیز ہے۔ مگر کھڑکی کے رنگین شیشہ نے مجھے اس محبوب چیز سے محروم کر رکھا تھا۔ اس محرومی نے میرے لئے اس قیمتی سفر کو روحانی اعتبار سے بے لطف سفر بنادیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان میں یہ بد ذوقی کہاں سے آئی۔ مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں کی ٹرینوں کی کھڑکیوں میں بڑے بڑے شیشے بالکل صاف و شفاف رنگ کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ مسافر باہر کے مناظر کو بالکل صاف طور پر دیکھتا رہتا ہے، مجھے اسی بنا پر ٹرین کا سفر پسند ہے مگر رنگین شیشوں کے کلچر نے میرے لئے ہندوستان میں ٹرین کے سفر کو ایسا بنا دیا جس میں میرا جسم تو سفر کرتا رہا مگر اسی کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میرے روحانی سفر پر روک لگا دی گئی ہو۔ ۲۲ نومبر کے اخبارات میں دہلی میں دیکھ نہیں سکا تھا۔ چنانچہ اسے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا کہ راستہ میں دیکھوں گا۔ اپنے ہم سفر سے پڑھوا کر ان کو سنتا رہا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (۲۲ نومبر ۲۰۰۳) کے صفحہ اول پر اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کوفی عنان کا یہ قول چھپا ہوا تھا— ٹرزم کے ذریعہ کسی صحیح مقصد کی طرف پیش رفت نہیں ہوسکتی: :
No just cause can be advanced by terrorism.
یہ نہایت درست بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ متشددانہ طریق کار ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جن
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues