Al-Risala · July 2004 · page 57

وار دھا کا سفر

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۵۷

ہوا۔ برٹش اقتدار کے دو سو سال کے درمیان ہمارے جو رہنما اٹھے وہ سب کے سب ردِ عمل کی نفسیات کے تحت اٹھے۔ اس لئے ان کی سوچ ابتدا ہی سے متعصبانہ سوچ بن گئی۔ چنانچہ وہ اس دور کے مثبت پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر ررہے۔

مجھے اللہ کی خصوصی توفیق سے یہ نعمت ملی کہ میں متعصبانہ سوچ اور منفی الفاظ کے جنگل کے درمیان جدید مغربی تہذیب کی اصل نوعیت کو سمجھ سکا۔ میرے علم کے مطابق، ہمارے جدید رہنماؤں میں یا تو سر سید احمد خاں جیسے مرعوبانہ ذہن کے لوگ پیدا ہوئے یا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسے لوگ پیدا ہوئے جو اپنی ردِ عمل کی نفسیات کی بنا پر مثبت پہلو سے جدید تہذیب کی اصل نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے دور میں یہود کے لئے ذلت مقدر کر دی گئی ہے۔ اب انھیں قیام حیات یا تو حبل اللہ کی بنیاد پر ملے گا یا حبل الناس کی بنیاد پر (آل عمران (۱۱۲) یہ صرف یہود کی بات نہیں یہ دراصل حامل کتاب قوم کے بارے میں خدا کا قانون ہے جس کو یہاں یہود کی مثال کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا تقریباً ہر جگہ یہی حال ہو رہا ہے۔ اب مسلمان کہیں بھی خود اپنی قوت کے بل پر قائم نہیں ہیں بلکہ وہ دوسری قوموں کے عطیہ پر قائم ہیں۔ کسی بھی ملک میں مسلمانوں کی کوئی آزادانہ حیثیت نہیں۔

یہ بات صرف سیاسی اعتبار سے درست نہیں ہے بلکہ وہ وسیع تر معنوں میں درست ہے۔ مثلاً مسلمان آج ہر جگہ معاشی خوش حالی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یہ معاشی خوش حالی تمام تر جدید صنعتی انقلاب کا نتیجہ ہے جو مغربی قوموں کے ذریعہ دنیا میں آیا ہے۔ ہندوستان سے لے کر امریکا تک کروڑوں مسلمان جمہوریت، آزادی اور سیکولرزم کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب چیزیں بھی مسلمانوں کی پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ وہ غیر مسلم قوموں کا عطیہ ہیں، وغیرہ۔

گرینڈ ٹرنک ایکسپریس میں میرا ٹکٹ اے سی فرسٹ (ACI) کے لئے تھا۔ اے سی فرسٹ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page