Al-Risala · July 2004 · page 61

35 hurt in mosque blast in Maharashtra

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۱

سامنا عالمی انداز میں کرنا چاہئے:

We who represent the civilized world are facing a global threat and we have to deal with it in a global way. موجودہ زمانہ میں امریکہ کے خلاف نفرت اور تشدد کا جو مسئلہ پیدا ہوا اس کا سبب اصلاً تہذیب کی نمائندگی نہیں ہے بلکہ اپنی تہذیب کو متشددانہ طور پر رائج کرنا ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک فریق اگر ایسے طریق کار سے تشدد کا عنصر نکال دے تو اپنے آپ یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ اس کی ایک مثال جاپان کی صورت میں آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں جاپان نے پہلے تشدد کیا، اس کے بعد وہ خود جوابی تشدد کا شکار ہوا۔ مگر جنگ کے بعد جاپان نے معکوس عمل (reverse course) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اپنی طرف سے تشدد کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد وہاں تشدد بھی ختم ہو گیا۔

ہندوستان ٹائمس (۲۲ نومبر ۲۰۰۳) کے صفحہ ۱۳ پر ایک رپورٹ کے ساتھ ایک مسجد کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ یہ لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد کی تصویر تھی۔ تصویر میں دکھائی دے رہا تھا کہ بڑی تعداد میں مسلمان سجدے کی حالت میں زمین پر اپنا سر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جمعۃ الوداع کی نماز کا منظر تھا۔ یہ تصویر یہاں شائع کی جارہی ہے۔

مسجد کی یہ تصویر دیکھ کر مجھے ایک بات یاد آئی۔ لکھنؤ ایک بڑا شہر ہے۔ مسلمان کافی تعداد میں یہاں رہتے ہیں۔ مگر لکھنؤ میں غالباً شیعہ روایات کی بنا پر جامع مسجد کے نام سے کوئی مسجد نہیں ہے۔ مسلمانوں نے کئی بار کوشش کی کہ لکھنؤ میں ایک بڑی جامع مسجد تعمیر کی جائے۔ اس تحریک میں مولانا علی میاں جیسے ممتاز لوگ بھی شریک تھے مگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔

دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے جب کہ لکھنؤ کے قریب واقع بابری مسجد کا ہنگامہ جاری تھا اور حالات غیر یقینی صورت اختیار کئے ہوئے تھے۔ اس وقت یوپی کے چیف منسٹر اور دوسرے ہندو لیڈروں نے یہ پیش کش کی کہ اگر مسلمان بابری مسجد کے ری لوکیشن (relocation) پر راضی ہو جائیں تو ہم ان کے لیے موجودہ مسجد سے بہت زیادہ بڑی مسجد دوسری جگہ پر بنادیں گے۔ اور اس سلسلہ میں ان کا بھر پور

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page