35 hurt in mosque blast in Maharashtra
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۲
تعاون کریں گے۔ اس وقت بعض اعتدال پسند افراد نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلمان اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے یہ کریں کہ وہ لکھنؤ میں ایک بڑی جامع مسجد اور اسلامک سنٹر تعمیر کر لیں۔ مگر اس وقت مسلم رہنما اتنے جوش میں تھے کہ انھوں نے اس قسم کی تجویز پر سوچنے سے انکار کر دیا۔ اب جیسا کہ معلوم ہے، ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ۶ دسمبر سے یہاں اس معاملہ پر یہ انگریزی قول صادق آتا تھا—لوہے پر ہتھوڑا اس وقت مارو جب کہ وہ گرم ہو: Strike the iron when it is hot میں نے بابری مسجد کو ۱۹۷۳ سے پہلے اس وقت بھی دیکھا ہے جب کہ وہ ایک بھاری بھرکم سنگی تعمیر کی صورت میں کھڑی تھی اور ۱۹۹۲ کے بعد بھی دیکھا ہے جب کہ وہ ایک عارضی مندر (make-shift mandir) میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اب وہاں ماضی کا کوئی بھی نشان موجود نہیں۔ چنانچہ دوسال پہلے جب میں ایودھیا گیا تھا تو ایک شخص نے مسلمانوں کے دعوے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت ہے۔ یہاں کا مشہور فارمولا یہ ہے: قبضہ سچا دعویٰ جھوٹا۔
ہماری کیبن میں ایک خاتون اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ یہ بھوپال کی نیلو فر خاں تھیں۔ وہ بھوپال کی ایک رئیس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور آج کل گارمنٹ کا بزنس کر رہی ہیں۔ ان کو اور ان کی والدہ کو ہم نے اپنے یہاں کے چھپے ہوئے دو انگریزی پمفلٹ Spirituality in Islam پڑھنے کے لئے دئے۔ ان کی ماں نے یہ پمفلٹ پورا پڑھ ڈالا۔ مگر نیلو فر خاں نے چند منٹ پمفلٹ کو دیکھا اس کے بعد اس کو الگ رکھ دیا اور پھر انگریزی کی ایک موٹی کتاب نکالی۔ یہ ایک ناول تھا جس کا نام ایڈن تھا۔ وہ اس ناول کو دیر تک پڑھتی رہیں۔ بوڑھی خاتون نے اپنی عمر ۷۵ سال بتائی۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے سینئر ہوں اور میر عمر ہجری کلینڈر کے لحاظ سے ۸۰ سال سے زیادہ ہو رہی ہے۔ اس پر انھیں تعجب ہوا۔ مذکورہ خاتون کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔ مگر میں اللہ کے فضل سے بظاہر بالکل متعدل حالت میں تھا۔ چنانچہ خاتون نے میرے بارے میں کہا کہ آپ کے اوپر عمر کا کوئی اثر نہیں۔ آپ آج بھی پوری طرح مستعد (agile) نظر آتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues