Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۸۰
جواب بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہے۔ اس لئے کہ میرا سوال فکر کے سفر کے بارے میں تھا۔ اور فکر کا سفر بلا روک جاری رہنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جب کہ انھوں نے چڑیا کی مثال دی جو جسمانی سفر کی ایک مثال ہے۔ جسمانی سفر بلا شبہ محدود دائرہ میں جاری ہوتا ہے۔ مگر فکری سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے، وہ سارے کاما سے گزر کر فل اسٹاپ تک پہنچ سکتا ہے۔
۲۴ نومبر ۲۰۰۳ کا دن اسلام کے لئے خاص تھا۔ اس میں میں واحد اسپیکر تھا۔ پروگرام کی ترتیب اس طرح بنائی گئی کہ دوپہر سے پہلے کے سیشن میں میں نے اسلام پر ایک تعارفی تقریر کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ دوپہر بعد کا سیشن سوال و جواب کے لئے رکھا گیا تھا۔ حاضرین کی طرف سے اسلام پر مختلف قسم کے سوالات کئے گئے جن کے میں نے جواب دئے۔
اپنی تقریر میں میں نے پہلے قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلام کا سادہ تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ فنڈ منٹلزم وہی چیز ہے جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پرامن سماج بنانے کا فارمولا کیا ہے۔
سوال و جواب کے سشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔
ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہاں ٹررست تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں خود مدرسہ کا ایک پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم ازکم انڈیا میں مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ مدرسہ میں کیسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں، اس کا اندازہ مجھ کو دیکھ کر آپ کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف مذہبی تعلیم کے لئے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی بھی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues