Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۹
ہے۔ اور دوسرے یہ کہ چھ سال کے بچے نے جس انداز میں اپنے باپ کا جواب دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی نسل میں جو کلچر فروغ پا رہا ہے وہ آزادی کے نام پر انارکی کا کلچر ہے۔ مذکورہ صاحب نے جب اپنے بیٹے کے بارے میں یہ بات بتائی تو اُن کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے، نہ کہ درد کے آثار۔ گویا اُنہیں اس پر فخر تھا کہ میرا بیٹا اتنا زیادہ بولڈ ہے۔ موجودہ زمانہ کے ماں اور باپ اپنے بیٹے کی محبت میں اتنا زیادہ گرفتار ہو چکے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے کی ہر بات اچھی لگتی ہے۔ حالاں کہ اگر یہی بات ان کے بیٹے کے سوا کوئی اور کہے تو وہ فورا غصہ ہو کر اُس سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ میرے نزدیک یہ بیٹے کی محبت نہیں ہے بلکہ وہ بیٹے کے ساتھ دشمنی ہے۔ یہ بیٹے کے مزاج کو بگاڑنا ہے۔ ظاہر ہے کہ بچہ جب بڑا ہو کر باہر کی دنیا میں جائے گا تو کوئی دوسرا شخص اُس کی اس قسم کی باتوںکو برداشت نہیں کر سکتا۔ اُس وقت اُس کو یا تو منافق بننا پڑے گا یا وہ لوگوں سے لڑبھڑ کر اپنے آپ کو تباہ کرلے گا۔
یہاں مختلف مقامات کے اسکالرس اور پروفیسرز آئے تھے۔ اُن کی باتیں کانفرنس کے اجلاس میں سننے کو ملیں ۔ تاہم ذاتی گفتگو کا موقع زیادہ تر کھانے اور چائے کی میز پر ہوتا تھا۔ مگر میرے جیسے آدمی کے لیے کسی گفتگو کو نتیجہ تک پہنچانا بہت مشکل تھا۔ اس لیے کہ یہ لوگ بار بار فرضی مثالوں کی زبان میں بات کرتے تھے۔ جب کہ میرے نزدیک فرضی مثال سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً دو ہندو پروفیسر سے میں نے کہا کہ عام طور پر ہندو اسکالرس کا کہنا ہے کہ ہندوازم ایک ابدی تلاش کا نام ہے۔ اس میں کوئی فل اسٹاپ نہیں۔ اس میں بس کاما ہی کاما ہے۔ میں نے پوچھا کہ ہر تلاش کی ایک منزل ہوتی ہے۔ پھر ہندوازم کی تلاش کی منزل کیوں اب تک نہیں آئی۔ جب کہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوازم دنیا کا قدیم ترین مذہب ہے۔ حتیٰ کہ ان کے مطابق ، نامعلوم مدت سے یہ تلاش جاری ہے۔ سچائی یقین چاہتی ہے اور یقین منزل کے بغیر کبھی نہیں آتا۔
انھوں نے اس کا جواب تمثیل کی زبان میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ چڑیا آسمان میں اڑتی ہے۔ مگر وہ کبھی آسمان کی حد تک نہیں پہنچتی۔ وہ جس دائرہ میں اڑ رہی ہے وہی گویا اس کی منزل ہے۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues