Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۸۲
کہ وہاں کے باشندے خود اپنے آپ کو جو نام دیے ہوئے تھے وہی نام اصحاب پیغمبر نے بھی انہیں دیا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، رومی کو رومی، مجوس کو مجوس، بدھسٹ (بوذا) کو بدھسٹ، وغیرہ۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کا طریقہ ہے۔ ہندوستان میں مختلف مذہبوں کے ماننے والے لوگ بستے ہیں۔ اسلام کے مطابق، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہر گروہ کو اُسی نام سے پکاریں جو اُن کا اختیار کردہ نام ہے۔ مثلاً ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی، جینی، وغیرہ۔ مسلمانوں کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ ان گروہوں کو کافر کے لفظ سے پکاریں۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم ہے۔
گاندھیائی سینٹر میں میری تقریر کے بعد جو سوالات ہوئے وہ زیادہ تر اسی قسم کے سوالات تھے جو دوسرے غیر مسلم اجتماعات میں کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، برقعہ، مدرسوں میں عسکری تربیت وغیرہ۔ اسی قسم کا تجربہ مجھے مسلمانوں کے اجتماعات میں بھی ہوا۔ مسلمانوں کے اجتماع میں جب میں تقریر کرتا ہوں اور اس کے بعد سوال کا وقفہ دیا جاتا ہے تو وہاں بھی زیادہ تر ایک ہی قسم کے سوالات کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، فرقہ وارانہ فساد، بندے ماترم، مسلم پرسنل لا وغیرہ۔ میں نے سوچا کہ آخر لوگ یکساں قسم کے سوالات کیوں کرتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز اخبارات ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں اخباروں کے ذریعہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ اخباروں میں عام طور پر جو باتیں آتی رہتی ہیں وہی باتیں ان کے ذہن میں ہوتی ہیں اور انہی کے بارے میں وہ سوال کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ذہنی ارتقاء کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
۲۵ نومبر کو دوپہر سے پہلے کے سشن میں ڈاکٹر ہمنت شاہ (Hemant Shah) کا لکچر تھا۔ انھوں نے جین ازم کے فلسفہ پر اپنا لکچر دیا۔ ان کے لکچر میں تقریر کم تھی اور معلومات زیادہ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جین ازم کے مطابق، واحد مطلق علم یہ ہے کہ کوئی علم مطلق نہیں۔ According to Jainism, only absolute knowledge is that no knowledge is absolute. سامی مذاہب کے فلاسفر اکثر ایسی ہی بات کرتے ہیں۔ یہ بات کہنے میں تو بہت اچھی ہے مگر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues