Al-Risala · July 2004 · page 83

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۸۳

حقیقت کے اعتبار سے وہ خوبصورت الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ مذہب سچائی کی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ تلاش صرف تلاش ہے تو ایسے مذہب یا ایسے فلسفۂ تلاش کی کیا ضرورت۔ پھر تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ انسان کو چشمہ میں بہتے ہوئے تنکے کی طرح چھوڑ دیا جائے اور سرے سے یہ سوچا ہی نہ جائے کہ اس تنکے کی کوئی منزل ہے یا کوئی منزل ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تلاش حق خود تلاش حق کی نفی ہے۔ کیوں کہ انسان سب سے زیادہ جس چیز کو چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ میرے لئے سچائی کیا ہے۔ جب انسان اس سب سے زیادہ مطلوب بات کو نہ جان سکے تو خود انسانی وجود عملاً بے معنی ہو جاتا ہے۔ پھر یہ بات نا قابل فہم بن جاتی ہے کہ دنیا میں انسان کے لئے مادی غذا تو بھر پور طور پر موجود ہو مگر اس کی فکری اور روحانی غذا موجود نہ ہو جب کہ فکری اور روحانی غذا ہی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انھوں نے ایک اور بات یہ کہی کہ سماج میں سارا جھگڑا اس کا ہے کہ آپ یہ مانیں کہ سچائی صرف آپ کے پاس ہے، دوسرے کے پاس نہیں۔ انھوں نے اس کے بجائے تعدد حقیقت (manyness of reality) کے نظریہ کی وکالت کی۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم یہ مان لیں کہ دوسرا بھی برحق ہو سکتا ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہوگا : If you say that others may also be right then where is that jhagra. مگر یہ محض ایک مفروضہ ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ تعدد حقیقت پر عقیدہ رکھنے والے خود بھی آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ حتی کہ ایک دوسرے کو گولی مار دیتے ہیں۔ یہ باہمی جھگڑا کورواور پانڈو سے لے کر آج تک جاری ہے۔ تعدد حقیقت کا کوئی بھی پر چار اس جھگڑے کو ختم نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ جھگڑا ہو نہ یا جھگڑا نہ ہونے کے اسباب دوسرے ہیں۔ تعدد حقیقت یا تو حد حقیقت کے نظریات سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔

۲۵ نومبر کو دو پہر بعد کے سشن میں ڈاکٹر ہیمنت شاہ کی تقریر تھی۔ انھوں نے جین ازم کے نقطۂ نظر سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page