Books act like soap for the mind
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴
نوازش کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ جانچ کے طور پر ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر مادی چیز امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اُس کے ذریعہ خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آدمی اُس کو پا کر خدا کا شکر گزار بنایا وہ سرکش ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان پر خدا کا یہ سب سے بڑا حق ہے کہ وہ ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اُس پر اُس کا شکر ادا کرے۔ جو آدمی دل سے خدا کا شکر ادا کرے وہ امتحان میں کامیاب ہوا اور جس کے دل میں شکر کا جذبہ نہیں اُمڈا وہ اپنے امتحان میں ناکام ہو گیا۔ میرے تجربہ کے مطابق، جناب عبد السلام اکبانی صاحب کا گھر وہ گھر تھا جہاں میں نے لوگوں کی زبان پر شکر کا چرچا پایا۔ جہاں افراد خانہ کے اندر یہ زندہ شعور موجود تھا کہ اگر نہ ملے ہوئے کو پانا چاہتے ہو تو پہلے ملے ہوئے پر دینے والے کا شکر ادا کرو۔ شکر دراصل مزید عطیہ کے لیے استحقاق کی حیثیت رکھتا ہے۔
۲۹ نومبر ۲۰۰۳ کو ناگپور سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ سفر آندھرا پردیش ایکسپریس کے ذریعہ طے ہوا۔ میرے کیبن میں ایک ریلوے افسر سفر کر رہے تھے۔ ابتدا میں وہ مجھ سے بالکل بے تعلق رہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک مغرور آدمی ہیں۔ مگر جب انہوں نے مجھ کو قریب سے دیکھا اور میری چند باتیں سنیں تو وہ بالکل بدل گئے اور مجھ سے نہایت تواضع کے ساتھ پیش آنے لگے۔ ۳۰ نومبر کی صبح کو میں دہلی پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues