Books act like soap for the mind
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۳
وقت میں اپنے کمپیوٹر پر کام کر رہا ہوں تم دوسرے کمرہ میں جا کر اپنا کپڑا پریس کر لو۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے اوپر اپنا حکم چلا رہے ہیں۔ وہ مجھ کو اپنا تابع بنالینا چاہتے ہیں۔ میں نے دوسرے کمرہ میں جانے سے انکار کر دیا۔ اس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔
میں نے خاتون سے کہا کہ اس واقعہ میں تمام تر آپ کی غلطی ہے۔ آپ کو دوسرے کمرہ میں جا کر پریس کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں اس طرح ہر موقع پر اپنے شوہر کی بات مانتی رہوں تو وہ مجھ کو ڈورمیٹ (doormat) بنا دے گا۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ آپ انسانی نفسیات کو نہیں جانتیں۔ اس موقع پر اگر آپ اپنے شوہر کی بات مان لیتیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کے شوہر کے دل میں آپ کی عزت بڑھ جاتی۔ آپ دونوں کے درمیان تعلقات زیادہ خوشگوار ہو جاتے۔
زبیر احمد اکبانی ناگپور کے ٹمبر مرچنٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے کاروبار کو مینیجیبل لمٹ (انتظامی حد) کے اندر رکھیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب سے ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے ہم کو ذہنی سکون بھی ملا ہے اور کاروباری ترقی بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فارمولا ہر کاروباری آدمی کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی ناکامی کا راز یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حد کو نہیں جانتے۔ وہ اپنے کام کو اتنا زیادہ بڑھا لیتے ہیں جو ان کی مینچیبل لمیٹ (manageable limit) سے باہر ہوتا ہے۔ یہ اصول ہر جگہ مطلوب ہے، تجارتی معاملات میں بھی اور غیر تجارتی معاملات میں بھی۔ عبدالسلام اکبانی صاحب کے گھر پر میں نے دیکھا کہ ایک دیوار پر یہ قرآنی آیت لکھی ہوئی ہے:
هذا من فضل ربی ليبلونی ء اشکر أم اكفر (النحل ۴۰) میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر لوگ جب گھر بناتے ہیں تو وہ اپنے گھر پر اس آیت کا صرف ایک حصہ (هذا من فضل ربی) لکھتے ہیں۔ مگر یہاں اس کے برعکس پوری آیت لکھی ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ آیت کا صرف ایک حصہ لکھنا قرآن کے اصل مفہوم کو واضح نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق، گھر یا مادی نفع جو اس دنیا میں کسی کو ملتا ہے وہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues