Al-Risala · August 2004 · page 9

پہلے آپ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۹

پہلے آپ

ڈاکٹر سو جات مو کو انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر تھے۔ وہ جکارتہ یونیورسٹی میں ایک علمی موضوع پر لکچر دے رہے تھے۔ عین لکچر کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ اسٹیج ہی پر گر پڑے اور اسی وقت وفات پاگئیے ۔ وہ پہلے ایشیائی تھے جو اقوام متحدہ کی امن یونیورسٹی (ٹوکیو) کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے ۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں :

Prof Dr. Soedjatmoko, one of the leading intellectuals of Indonesia while delivering a lecture at a University campus, in Jogjakarta, had a heart attack, collapsed and expired. He was the first Asian to become the President of UN's Peace University in Tokyo. He has written a number of books. ڈاکٹر سو جات مو کو کا کیس موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کیس ہے ۔ پریس اور میڈیا اور پلیٹ فارم کے ظہور نے ہر آدمی کو بولنے کے لامتناہی مواقع دیدیئے ہیں ۔ ہر آدمی صبح وشام بولنے میں مصروف ہے۔ آج ہر آدمی دوسروں کو سنار ہا ہے ۔ حالاں کہ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہر آدمی کی طرف آرہے ہیں تاکہ اس کو لے جا کر وہاں کھڑا کردیں جہاں اس کو صرف سننا ہے ، سنانے کا موقع آخری طور پر اس کے لیے ختم ہو چکا ہے۔

علم لفظوں سے واقفیت کا نام نہیں ہے بلکہ معانی سے واقفیت کا نام ہے ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا کام بولنا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا کام چپ رہنا ہے۔ یہاں اصل اہمیت اظہار رائے کی نہیں ہے بلکہ اظہار رائے سے پہلے سوچنے کی ہے ۔

بولنے والا حقیقتاً وہ ہے جو اپنے آپ سے بولے ۔ بتانے والا وہ ہے جو اپنے دماغ کو سوچنے میں لگائے ہوئے ہو ۔ دوسروں کو نصیحت کرنے والا وہ ہے جو دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرے ، جو دوسروں کو مخاطب کرنے سے پہلے اپنا مخاطب خود بن جائے ۔ جو دوسروں پر بلڈوزر چلانے کا نعرہ لگانے سے پہلے خود اپنی ذات پر بلڈوزر چلا چکا ہو۔ دوسروں کو مخاطب کرنا سب سے آسان کام ہے اور اپنے آپ کو مخاطب کرنا سب سے مشکل ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page