امتحان کے لیے
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۱۰
امتحان کے لیے
امتحان ہال میں طالب علم کو بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ بلڈنگ ، میز، کرسی، ملازم کاغذ اور بہت سی دوسری چیزیں ۔ وہ بلا روک ٹوک ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔ وہ آزادانہ طور پر ان کے درمیان اپنی نشست پر بیٹھتا ہے۔
بلڈنگ اس کو سردی اور گرمی سے بچاتی ہے۔ میز اور کرسی اس کو آرام کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ کاغذ اور دوسرے سامان اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہے ان کو استعمال کرے اور جو چاہے کاغذ کے صفحہ پر ختم کرے۔
مگر یہ سب کچھ جو طالب علم کو ملتا ہے وہ امتحان کے طفیل میں ملتا ہے۔ وہ صرف اس وقت تک کے لیے اس کا ہے جب تک امتحان کی مدت پوری نہ ہو جائے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوتی ہے اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جاتا ہے جو اس کو اب تک بے روک ٹوک ملا ہوا تھا، جو دیکھنے والوں کو اس کا ذاتی اثاثہ دکھائی دے رہا تھا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ دنیا میں انسان کا ہے۔ یہاں آدمی کو بظاہر بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جس طرح چاہے یہاں رہے اور جس طرح چاہے اپنی ملی ہوئی چیزوں کو استعمال کرے۔
مگر یہاں جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ سب امتحان کے طفیل میں ہے۔ خدا موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان لے رہا ہے۔ اور اس امتحان کے تقاضے کے تحت وہ بہت سی ضروری چیزیں انسان کو دے دیتا ہے۔ مگر یہ آدمی کے پاس صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہو جائے ۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک اس سے سب کچھ چھین جائے گا۔ وہ آدمی جو آج بن ٹھان کر سب کچھ پائے ہوئے ہے وہ اس وقت بالکل بے کچھ ہو جائے گا۔ اس دن وہ اس مسافر کی طرح ہوگا جس کو اچانک لتق و دق صحرا میں ڈال دیا جائے۔ وہ اس انسان کی طرح ہوگا جس کو لامتناہی حلا میں بالکل بے سہارا چھوڑ دیا جائے ۔
موجودہ حالت اور اگلی حالت کے درمیان صرف موت کی غیر مرئی دیوار حائل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues