Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
اس وقت یہ سب نہ کرتے اور خاموشی کی سیاست اختیار کرتے تو بابری مسجد کا مسئلہ ایک بستی کا صرف چھوٹا سا مسئلہ رہتا۔ ایسا کبھی نہ ہوتا کہ وہ پورے ملک کا مسئلہ بنے اور سارے ہندوؤں کے لئے قومی انا کا سوال بن جائے۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر اگر اس قسم کی حکیمانہ سیاست چلائی جاتی تو بابری مسجد کبھی نہ ٹوٹتی جیسا کہ اس سے پہلے ساڑھے چار سوسال تک وہ نہیں ٹوٹی تھی۔
مگر اب جب کہ ہمارے جذباتی لیڈروں کی غیر حکیمانہ سیاست کے نتیجہ میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کا ملبہ ہٹا کر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا۔ ایسی حالت میں صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ اب ہمیں بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے اس معاملہ میں شریعت کا حکم دریافت کرنا چاہئے۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے اس معاملہ میں یہ معمول کا ایک مسئلہ تھا۔ مگر اب وہ ایک غیر معمولی مسئلہ بن چکا ہے۔ اور اب صرف غیر معمولی قانون کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اس غیر معمولی صورت حال کو قرآن میں اضطرار (البقرہ ۱۷۳) کہا گیا ہے، یعنی مجبوری کی حالت ۔ متفقہ شرعی مسئلہ کے مطابق، جب مجبوری کی حالت آجائے تو حرام بھی اہل اسلام کے لئے حلال ہو جاتا ہے۔ اسی شرعی اصول کی بنا پر اسلامی فقہ میں وہ مشہور مسئلہ بنایا ہے، جس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ اس کو عام طور پر ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (زماں اور مکاں کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) اسی طرح فقہ کا یہ مسلمہ اصول ہے: الضرورات تبیح المحظورات ۔ یہ ایک عالمی اصول ہے اور جدید قانون میں اس کو قانونِ ضرورت (law of necessity) کہا جاتا ہے۔ اسی قانون ضرورت کے تحت موجودہ زمانہ میں سعودی عرب، مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں سیکڑوں کی تعداد میں مسجدیں اپنی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ بنائی گئی ہیں، جس کو عام طور پر ری لوکیشن (re-location) کہا جاتا ہے۔ عرب ملکوں میں مسجد کی تبدیلیِ مقام کا یہ عمل زیادہ تر شہری منصوبہ بندی (city planning) کی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستان کا مسئلہ اور بھی زیادہ شدید ضرورت کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues