Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں جان و مال کی تباہی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے جو تمام ضرورتوں سے زیادہ شدید ضرورت ہے۔ ایسی حالت میں علماء کو چاہیے کہ وہ متفقہ طور پر یہ اعلان کر دیں کہ اس معاملہ میں ضرورت شدیدیدہ کی صورت پیدا ہو گئی ہے اور اب شرعی طور پر یہ جائز ہو گیا ہے کہ اجودھیا کی مسجد کا مقام تبدیل کر دیا جائے تاکہ مسلمانوں کی جان و مال اور عزت محفوظ ہو سکے اور ملک میں امن و امان قائم ہو سکے۔ کچھ مسلم دانشوروں کی طرف سے اس نزاع کا یہ حل پیش کیا گیا ہے کہ بابری مسجد کو لوکیٹ (re-locate) کر دیا جائے۔ اس طرح یہ نزاع اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ مگر مسجد کا مسئلہ ایک خالص دینی اور شرعی مسئلہ ہے۔ اس لئے یہ مسئلہ صرف اس وقت ختم ہو سکتا ہے جب کہ اس کے اس حل کو علماء کی طرف سے پیش کیا جائے۔ غیر علماء کے بیانات اس مسئلہ کا قابل قبول حل نہیں بن سکتے۔ یہاں اس معاملہ کا ایک اور پہلو قابل ذکر ہے۔ قرآن میں اضطرار کا حکم جس سیاق میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی موقع پر آدمی کو حلال خوراک حاصل نہ ہو اور اس کے لئے بھوک سے موت کا خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ حرام مثلاً خنزیر یا مردار کا گوشت کھا سکتا ہے۔ علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ ایسے موقع پر جان بچانے کے لئے اکل حرام کا معاملہ رخصت نہیں ہے بلکہ وہ عزیمت ہے۔ ایسے موقع پر نہ کھانا ایک گناہ کا فعل ہے۔ ایسے اضطرار کے موقع پر اکل حرام واجب ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر نہ کھانا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے جو کسی کے لئے جائز نہیں۔ ایسے موقع پر اگر وہ نہ کھائے تو یہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے جو گناہ کبیرہ کا درجہ رکھتا ہے۔ جب اکل حرام ضروری ہو جائے تو وہ آدمی کے لئے رخصت نہیں بلکہ عزیمت بن جاتا ہے۔ اگر ایسے موقع پر وہ نہ کھائے تو وہ گنہگار ہوگا۔ مسروق تابعی نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص مردار کھانے پر مجبور ہو جائے اور وہ اس کو نہ کھائے اور اسی حالت میں مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا : بَل رُبَّما يَأثم بترك التناول (روح المعاني) وَهَهُنا يَتَحَقَّقُ معنى الوجوب (تفسير الرازي) ولا خلاف انه لَا يَجُوزُ له قتلُ نفسِهِ بامساك عن الأكل و انه مامور بالأكل على وجه الوجوب (تفسير القرطبي) لو ترك الأكل تلف نفسه تلك أكبر المعاصي (تفسير القرطبي) وقال الطبرى
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues