موت
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۱۲
موت
موت کیا ہے ، موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔ موت " اپنی دنیا " سے نکل کر " دوسرے کی دنیا " میں جانا ہے۔ کیسا چونکا دینے والا ہے یہ واقعہ۔ مگر انسان کی یہ غفلت کیسی عجیب ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے ، پھر بھی وہ نہیں چونکتا۔ حالاں کہ ہر مرنے والا زبان حال سے دوسروں کو بتا رہا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزرا یہی تمہارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ آدمی پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ کامل بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو خدا کے فرشتوں کے حوالہ کر دے ۔ موت کا واقعہ ہر آدمی کو اسی آنے والے دن کی یاد دلاتا ہے ۔ موت کا حملہ سراسر یک طرفہ حملہ ہے۔ یہ طاقت اور بے طاقتی کا مقابلہ ہے۔ اس میں انسان کے بس میں اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ کامل عجز کے ساتھ فریق ثانی کے فیصلہ پر راضی ہو جائے۔ وہ یک طرفہ طور پر شکست کو قبول کرلے ۔
موت انسانی زندگی کے دو مرحلوں کے درمیان حد فاصل ہے۔ موت آدمی کو موجودہ دنیا سے اگلی دنیا کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ اختیار سے بے اختیاری کی طرف سفر ہے۔ یہ امتحان کے بعد اس کا انجام پانے کے دور میں داخل ہونا ہے ۔
موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی صداقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ معقولیت کے آگے جھکنے پر راضی نہیں ہوتا ۔ موت اس لیے آتی ہے کہ اس کو بے یارو مددگار کر کے حق کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے۔ جس صداقت کو اس نے باعزت طور پر قبول نہیں کیا تھا اس کو وہ بے عزت ہو کر قبول کرے ۔ جس حق کے آگے وہ اپنے ارادہ سے نہیں جھکا تھا۔ اس حق کے آگے مجبورانہ طور پر جھکے اور اس کی تردید کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے۔
انسان آج حق کی تائید میں چند الفاظ بولنا گوارا نہیں کرتا، جب موت آئے گی تو وہ چاہے گا کہ ڈکشنری کے سارے الفاظ حق کی موافقت میں استعمال کر ڈالے۔ مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جو اس کے الفاظ کو سنے۔ انسان آج ڈھنڈورا کرتا ہے، موت جب اس کو کھاڑے گی، تو وہ سراپا منہ و زبان بن جائے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues