Al-Risala · August 2004 · page 13

غلطی میری نہیں

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۱۳

غلطی میری نہیں

ایڈولف ہٹلر (۱۸۸۹ - ۱۹۴۵) کی موت کے بعد سے اب تک اس کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کی تعداد صرف انگریزی زبان میں تقریباً ۵۵ ہزار ہے۔ اس میں تازہ اضافہ برلن کا بنکر (The Berlin Bunker) ہے جو لندن سے چھپی ہے۔ ہٹلر کے آخری ۱۰۵ دن بنکر (فوجی تہ خانہ) میں گزرے تھے۔ مصنف نے اس زمانہ کے ہٹلر کے ساتھیوں سے معلومات حاصل کرکے یہ کتاب مرتب کی ہے۔ ۱۶ جنوری ۱۹۴۵ کو جب ایک ہزار امریکی بمباروں نے برلن کو تہس نہس کر دیا تو ہٹلر اپنے عملہ کے ساتھ خاموشی سے بنکر کے اندر چلا گیا۔ اس زمانہ میں اس کا اتنا برا حال تھا کہ ۵۵ سال کا ہو کر وہ ۷۰ سال کا دکھائی دینے لگا۔ اس کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا تھا کہ روس کی بڑھتی ہوئی فوجیں پہنچ کر اس کو پکڑ لیں گی۔ ان حالات میں ایک ایک شخص اس کا ساتھ چھوڑتا گیا۔ یہاں تک آخر میں صرف اس کا اکا اس کے ساتھ رہ گیا۔

ہٹلر کی حکومت چونکہ شروع سے آخر تک تشدد پر قائم تھی اس لیے ہٹلر کو ہر وقت اپنی موت کا شبہ لگا رہتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ۴۵ - ۱۹۳۹ کے درمیان ہٹلر کے اوپر ۲۵ بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ مگر ہر بار وہ بچ جاتا تھا۔ اس کی وجہ اس کا زبردست حفاظتی عملہ نہ تھا۔ بلکہ ہٹلر کا یہ مزاج تھا کہ وہ اکثر بالکل آخری وقت میں اپنا پروگرام بدل دیتا تھا۔ پروفیسر ہاف من کا کہنا ہے کہ ہٹلر بعض اوقات اپنا پروگرام طے کرنے کے لیے سکہ اچھالتا اور اس کو دیکھ کر فیصلہ کرتا۔

تاہم اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ آخر وقت تک ہٹلر نے یہ نہ کہا کہ "میں نے غلطی کی" وہ ہمیشہ اپنے جنرلوں اور یہودیوں اور کمیونسٹوں کو ساری باتوں کا الزام دیتا رہا۔ حتی کہ اپنے عوام کو بھی۔ مایوسی جب اپنی آخری حد پر پہنچ گئی تو ہٹلر نے سائنائڈ کیپسول کھا کر خودکشی کرلی (۳۰ جنوری ۱۹۸۰) دنیا میں کوئی آدمی اپنی غلطی کو نہیں مانتا، حتی کہ ہٹلر جیسا آدمی بھی نہیں جس کو تمام دنیا غلطی پر قرار دے چکی ہو۔ آدمی کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنی غلطی ماننے پر مجبور ہوگا۔ حتیٰ کہ اگر وہ اپنی زبان سے نہ کہے کہ میں غلطی پر تھا تو خود اس کے اپنے اعضا اس کے خلاف گواہی دیں گے اور وہ اس پر تدار نہ ہوگا کہ ان کو روک سکے (۴۱ / ۴۱)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page