جنت کا ٹکٹ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۲۴
جنت کا ٹکٹ
مغربی دنیا کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ ان کی عمر پچاس سال سے اوپر ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا: مجھ کو تو جنت کا ٹکٹ چاہیے، مجھ کو آپ صرف یہ بتائیے کہ جنت کا ٹکٹ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جنت کا کوئی ٹکٹ نہیں۔ یہ جنتی ٹکٹ کا معاملہ نہیں، یہ جبتی شخصیت کا معاملہ ہے۔ آخرت کی قیمتی جنت اس آدمی کو ملے گی جس نے اپنے اندر جبتی شخصیت کی تعمیر کی تھی۔ جنت میں داخلہ کسی کو ٹکٹ کے ذریعہ نہیں ملے گا۔ جنت کی قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے، اپنے وجود کی قیمت دے کر ہی کوئی شخص جنت کی دنیا میں اپنے لیے داخلہ پا سکتا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت تزکیہ کرنے والوں کے لیے ہے (ذلك جزاء من تزكى) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ آدمی منز کی شخصیت لے کر وہاں پہنچا ہو۔ یعنی وہ ایک ایسا انسان ہو جس کے اندر پاک روح بسی ہوئی ہو، جس کا دل اور دماغ آلائشوں سے پاک ہو۔ جس نے اپنے اندر ربانی شخصیت کا باغ اگایا ہو۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جس کے ایک طرف کیچڑ ہے اور دوسری طرف صاف و شفاف پانی۔ آدمی چاہے تو اپنے کو کیچڑ میں گندا کر لے، اور چاہے تو صاف پانی میں نہا کر صاف ستھرا بن جائے ۔ جو لوگ اپنے آپ کو گندا کریں، وہ آخرت میں جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو پاک کریں، ان کو جنت کی نعمت گاہوں میں بسایا جائے گا۔
اعتراف کے موقع پر اعتراف کرنا اپنی شخصیت کو پاک کرنا ہے اور اعتراف کے موقع پر بے اعترافی کا رویہ اختیار کرنا اپنی شخصیت کو گندا کرنا۔ اسی طرح ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیتا ہے اور دوسرا شخص پست اخلاق کا۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص حق تلفی کرتا ہے اور دوسرا شخص حق رسانی۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص امین ثابت ہوتا ہے اور دوسرا شخص خائن ۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص تواضع کے راستہ پر چلتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کے راستہ پر۔ ان میں سے اول الذکر آدمی اپنی شخصیت کو پاک کرنے والا ہے، وہ جنت کی نفیس دنیا میں داخلہ پائے گا۔ ثانی الذکر آدمی اپنی شخصیت کو گندا کرنے والا ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues