صحیح رخ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۲۵
صحیح رخ
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما رایت مثل النار نام ھاربھا وما رایت مثل الجنة نام طالبھا۔ حدیث میں ہارِب نار (جہنم سے بھاگنے والا) اور طالب جنت (جنت کا چاہنے والا) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ اسلوب بہت بامعنی ہے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کی تخلیق اس ڈھنگ پر کی گئی ہے کہ وہ عین اپنی فطرت کے اعتبار سے ہارِب جہنم اور طالب جنت بنے۔ اگرچہ اپنی فطرت سے انحراف کرکے وہ اس سے مختلف انسان بن جاتا ہے۔
انسان تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتانا۔ کسی بھی قسم کا دکھ انسان کے لیے آخری حد تک ناپسندیدہ چیز ہے۔ اس کے بجائے انسان کا حال یہ ہے کہ وہ راحت کو دل و جان سے چاہتا ہے، وہ خوشی اور لذت کا انتہائی حد تک دلدادہ ہے۔ چنانچہ اس کی پوری زندگی انھیں دو چیزوں کے گرد گھومتی ہے۔ یعنی مصیبت سے اپنے آپ کو بچانا اور دنیا کی راحت کو اپنے لیے جمع کرنا۔ مگر یہ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے کہ وہ تکلیف اور مصیبت سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچا لے اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ راحت اور خوشی کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے حاصل کرلے۔ آدمی ساری زندگی اسی کی دوڑ دھوپ میں لگا رہتا ہے۔ مگر آخر کار اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ مصیبتوں سے محفوظ زندگی حاصل کرتا ہے اور نہ آرام و راحت کی دنیا اپنے لیے بنا پاتا ہے۔ ایک طرف انسان کا یہ جذبہ ہے اور دوسری طرف موجودہ دنیا میں اس کا ناقابل حصول ہونا، ان دونوں باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جذبہ کا اصل رخ آخرت کی طرف تھا۔ مگر انسان نے انحراف کرکے اس کو دنیا کی طرف موڑ دیا۔
انسان کی فطرت ہر لمحہ پکار رہی ہے کہ اسے شخص تو ہارِب جہنم اور طالب جنت بن۔ کامیاب وہ ہے جو اس آواز کو سن کر اس کی پیروی کرے۔ ناکام وہ ہے جو اس آواز کو نہ سنے اور آخرکار ابدی مایوسی کے گڑھے میں جاگرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues