جہادِ اکبر کیا ہے
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹
جہادِ اکبر کیا ہے
روزنامہ نوائے وقت (۷ مئی ۲۰۰۴) میں ایک مضمون ’’جہاد کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے نظر سے گزرا۔ اس مضمون میں جہاد کے حوالہ سے کئی باتیں بتائی گئی تھیں۔ اس مضمون میں جہاد کو مسلح قتال کے ہم معنی بتایا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں کہا گیا تھا کہ:
’’جہاد کا مقصد دنیا میں امن، راحت اور سکون قائم کرنا ہے۔ جہاد حق اور سچائی کے لیے جنگ کرنے کو کہتے ہیں۔ ‘‘ مضمون سے بظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جہاد یہ ہے کہ لوگوں سے جنگ کر کے انسانی دنیا میں مذکورہ حالت قائم کی جائے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ مذکورہ مقاصد کا کوئی تعلق جنگ سے نہیں۔ یہ مقاصد صرف پر امن تبلیغ کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے۔ لوگوں کو ایک خدا کا پرستار بنایا جائے۔ لوگوں کے اندر محاسبہ آخرت کا ذہن پیدا کیا جائے ۔ فکری جدوجہد کے ذریعہ لوگوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ با اصول زندگی گزارنے کو اپنی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھنے لگیں۔ یہ مقصد ذہن کی اصلاح کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ قتل و خون کا میدان گرم کرنے سے۔
جہاد کے موضوع پر آج کل کثرت سے مضامین شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان مضامین یا کتابوں میں سب سے زیادہ جامع ان کو سمجھا جاتا ہے جن میں جہاد کی تین قسمیں بتائی گئی ہیں۔ نفس سے جہاد اور شیطان سے جہاد اور دشمن سے جہاد۔ مگر اس مقبول تعریف میں وہ چیز چھوٹ گئی ہے جس کو قرآن میں جہاد اکبر کہا گیا ہے۔ اور یہ دعوت الی اللہ کی راہ میں کوشش کرنا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وجاهدهم به جهادا كبيرا (الفرقان ۵۲)
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ان کے اوپر قرآن کے ذریعہ بڑا جہاد کرو۔ اس بڑے جہاد یا جہاد اکبر سے مراد یہ ہے کہ غیر مسلموں تک اسلام کا ربانی پیغام پہنچانا۔ اسی کا نام دعوت و تبلیغ ہے اور یہی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues