Al-Risala · August 2004 · page 30

جہادِ اکبر کیا ہے

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

قرآن کے مطابق، سب سے بڑا جہاد ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جہاد کے موضوع پر لکھنے اور بولنے والے لوگ اس سب سے بڑے جہاد سے اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ وہ جہاد کی فہرست میں اس کو اب تک شامل نہ کر سکے۔

اس سے معلوم ہوا کہ دعوت واصلاح کی پر امن کوشش بڑا جہاد ہے۔ اس کے مقابلہ میں، ہتھیار کے ذریعہ مسلح کوشش چھوٹا جہاد ہے۔ دونوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے جس کو نفسیات اور تاریخ کے مطالعہ سے آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔ مسلح جدوجہد یا مسلح جہاد ایک دفاعی عمل ہے۔ کسی نے آپ کے اوپر حملہ کیا اور آپ نے بھی اس کے اوپر جوابی حملہ کر دیا۔ اس قسم کا عمل محدود دائرہ میں ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ وہ ہر پہلو سے ایک چھوٹا عمل ہے۔ مثلا رسول اللہ کے مکی دور میں دعوتی جہاد کیا گیا اور وہ مسلسل تیرہ سال تک جاری رہا۔ جب کہ غزوہ احد کے موقع پر مسلح جہاد کیا گیا اور وہ صرف آدھے دن میں ختم ہو گیا۔ دعوتی جہاد کامل طور پر ایک پر امن عمل ہے۔ دعوتی جہاد کا نشانہ یہ ہے کہ انسان کو بدلا جائے۔ انسان کو اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ایک نیا انسان بنایا جائے ۔ انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کی جائے جس کو خدا کی معرفت کہا جاتا ہے۔ انسان کے دل ودماغ میں ایسی تبدیلی لائی جائے کہ وہ مادی دنیا سے اپنے آپ کو اوپر اٹھائے اور آخرت کی جنت کو اپنا مرکز توجہ بنائے۔ یہ انسان کے اندر فکری انقلاب (intellectual revolution) لانے کا عمل ہے۔ اور انسان کے اندر فکری انقلاب لانا بلا شبہ پہاڑوں کو توڑنے اور سمندروں کو خشک کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو بڑا جہاد کہا گیا ہے۔

جنگ یا مسلح عمل کے ذریعہ ملک کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ مگر دلوں اور دماغوں کو فتح کرنا صرف پر امن کوشش کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ پر امن کوشش یا دعوتی عمل بلا شبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ خدا کے یہاں دعوتی عمل کے اوپر جو انعام مقرر کیا گیا ہے وہ کسی بھی دوسرے عمل کے اوپر مقرر نہیں کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page