معلومات اور تجزیہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۲
ہیں۔ مگر حقیقی عالم وہ ہے جس کے اندر تجزیہ اور تحلیل (analysis) کی صفت ہو۔ اور میرے علم اور تجربہ کے مطابق فطرت کا یہ اصول ہے کہ جس کے اندر غیر معمولی حافظہ ہوتا ہے اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔
کسی شخص کو حافظہ کی قوت حاصل ہو تو اس کے دماغ میں معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ اکٹھا ہو جائے گا۔ اُس کی گفتگو اور اس کی تقریر و تحریر میں معلومات کی کثرت دکھائی دینے لگے گی ۔ عام لوگ اس کو ایک قابل انسان سمجھنے لگیں گے۔ مگر اس کی معلوماتی بارش سے کوئی فصل نہیں اُگے گی۔ حتی کہ اگر آپ سننے والوں سے پوچھیں کہ جس کی تقریر کی تم تعریف کر رہے ہو اُس کی تقریر کا خلاصہ کیا تھا تو یہ لوگ اُس کا کوئی خلاصہ بتانے میں ناکام رہیں گے۔
تجزیہ کے بغیر معلومات کی حیثیت ایک جنگل کی ہے۔ تجزیہ کیا ہے۔ تجزیہ یہ ہے کہ مختلف معلومات کا گہرا مطالعہ کر کے اُس کا نتیجہ نکالا جائے۔ مثلاً ہندوستان کی آزادی سے پہلے ایک سیاسی لیڈر کی تقریر بہت مقبول ہوئی۔ اُن کا حافظہ اتنا زبردست تھا کہ وہ محض اپنی یادداشت سے انگریزی حکومت کے خلاف زبردست معلوماتی تقریر کرتے اور پھر یہ کہہ کر لوگوں کو مسحور کر دیتے کہ : Slavery or freedom, choose between the two. حالاں کہ اگر انہیں بصیرت کی نظر حاصل ہوتی اور وہ حقیقی واقعات کی روشنی میں فیصلہ کر پاتے تو اس کے بجائے شاید وہ یہ کہتے کہ :
Non-corrupt British rule or corrupt Indian rule—choose between the two. وہ تمام لیڈر جنہوں نے قوموں کو تباہی سے دوچار کیا، وہ وہی لوگ تھے جن کے پاس حافظہ تو تھا مگر اُن کے پاس تجزیہ کی طاقت موجود نہ تھی۔ اس بنا پر وہ حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھ نہ سکے۔ حافظہ بھیڑ اکٹھا کر سکتا ہے۔ مگر تجزیہ اور تحلیل کے بغیر کسی نتیجہ خیز جدوجہد کا ظہور ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues