معلومات اور تجزیہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۱
معلومات اور تجزیہ
ایک صاحب نے ایک جریدہ دکھایا۔ اس میں سید جمال الدین افغانی کے بارے میں ایک مفصل مضمون تھا۔ اس مضمون کا خاتمہ اس طرح ہوا تھا: سید جمال الدین افغانی نے زندگی کے آخری ایام استنبول میں سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں ۱۸۹۷ کو عمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تقریر شروع کر دیتے۔ سید جمال الدین افغانی کی شخصیت کے بارے میں لو تھروپ سٹوڈ راڈ نے درست طور پر لکھا ہے کہ: ان کے خیال کے مطابق، مغرب مشرق کا دشمن ہے۔ یورپ کے سینے میں آج بھی وہی صلیبی روح کام کر رہی ہے جو راہب پیطرس کے زمانہ میں مصروف کار تھی۔ اہل مغرب میں اب بھی وہی تعصب جاری وساری ہے۔ یہ ہر طریقہ سے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کی تحریکات کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں عالم اسلام پر واجب ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لئے متحد ہو جائے۔ سید جمال الدین افغانی اپنی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود مکمل طور پر نا کام رہے۔ اس کا سبب تلاش کرتے ہوئے ایک بنیادی بات میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ ان کے اندر غیر معمولی حافظہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی کتاب ایک بار پڑھنے کے بعد ان کے سینے میں محفوظ ہو جاتی تھی مگر میرے علم کے مطابق وہ تدبر کی صفت سے خالی تھی۔ جن لوگوں کا حافظہ بہت اچھا ہو وہ ہر مجلس میں معلومات کا انبار بکھیرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ لوگ ان کی معلومات سے متاثر ہو کر ان کو بڑا عالم مان لیتے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues