Al-Risala · August 2004 · page 36

سید جمال الدین افغانی

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۶

یہ نکلا کہ وہ انگریزوں کے دشمن بن گئے جو اس زمانہ میں نو آبادیاتی توسیع کے گویا امام بنے ہوئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لیے وقف کردی کہ وہ مسلم دنیا سے انگریز کے سیاسی کنٹرول کا خاتمہ کردیں۔ منفی سوچ کسی گہری حقیقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتی ہے۔ اس اصول کی ایک واضح مثال سید جمال الدین افغانی ہیں۔ وہ نو آبادیاتی دور کے مثبت پہلو کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ یہ قانون فطرت کا ایک معاملہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی سیاسی وسیعات کا دور شروع ہوا جو کئی صدی تک جاری رہا۔ یہ اس دور کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) تھا جس نے دنیا کو جھنجھوڑ اور اس کو تہماتی دور سے نکال کر فکری آزادی کے دور میں پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزار سال پہلے اگر مسلمانوں کی سیاسی وسیعات کا واقعہ پیش نہ آتا تو دنیا بند ماحول سے نکل کر کھلے ماحول تک نہ پہنچتی۔ اسی طرح نشأۃ ثانیہ (renaissance) کے بعد مغرب کی نو آبادیاتی توسیع کا جو دور شروع ہوا وہ بھی فطرت کی اسکیم کے مطابق تھا۔ دوبارہ یہ ایک شاک ٹریٹمنٹ تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کوروایتی دور سے نکال کر اس کو سائنسی دور میں پہنچایا جائے۔ فطری قانون کے زور پر یہ کام بہر حال انجام پایا۔ مگر جہاں تک مسلم رہنماؤں کا تعلق ہے وہ فطرت کی اس اسکیم سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ انھوں نے انتہائی بے خبری اور بے شعوری کے تحت ان مغربی طاقتوں سے نفرت کی اور ان کے خلاف ایک بے معنی جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ فطرت کی اسکیم کے خلاف تھی۔ چنانچہ وہ حبط اعمال کا شکار ہوگئی۔ جان و مال کی بے شمار قربانیوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ مزید عبرت کی بات یہ ہے کہ انہی مغربی قوموں کی بنائی ہوئی دنیا میں جا کر آج کی مسلم نسلیں ہر قسم کے مادی فائدے حاصل کررہی ہیں۔ جب کہ ان کے باپ اور دادا ان مغربی قوموں کو اسلام کا دشمن بتاکر اس کو ایمان کے منافی سمجھتے تھے کہ ان سے کسی قسم کی قربت یا تعاون کیا جائے۔ غلط رہنمائی کی جو مثال موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے پیش کی ہے اس کی کوئی دوسری مثال پوری انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ اس قسم کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کا انجام اولاً تباہی ہوتا ہے اور آخر میں منافقت۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page