سید جمال الدین افغانی
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷
مجھے اپنی نوجوانی کی عمر کا تجربہ یاد آتا ہے۔ اتر پردیش میں ہمارے گاؤں کے قریب سے ریلوے لائن گزرتی تھی۔ یہ ریلوے لائن میری پیدائش سے پہلے ۱۹۰۱ میں انگریزوں نے بچھائی تھی۔ اُس وقت وہ میٹر گیج تھی جواب براڈ گیج ہو چکی ہے۔ یہ ریلوے لائن ہمارے گاؤں سے اتنا زیادہ قریب تھی کہ وہ ہمارے گھر کی چھت سے دکھائی دیتی تھی۔ رات کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بہت سے روشن ڈبے سیٹی بجاتے ہوئے زمین پر دوڑ رہے ہیں۔
ریلوے لائن کا یہ واقعہ اس بات کا ایک مظاہرہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں ایک نیا علم وجود میں آیا ہے جس کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ غیر متحرک مادہ کو متحرک سواری میں تبدیل کیا جا سکے۔ مگر مجھے یاد ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے میں اس حقیقت سے شعوری طور پر آگاہ نہ ہو سکا تھا۔ کیوں کہ اس وقت کے لیڈروں اور رہنماؤں نے مجھے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ ریلوے لائنیں دراصل لوہے کی زنجیریں ہیں جن کے ذریعہ انگریز ہم کو اپنی غلامی میں جکڑ دینا چاہتا ہے۔
۱۹۴۷ کے بعد جب میں نے براہ راست جدید علوم کا مطالعہ کیا۔ اُس وقت میں نے یہ دریافت کیا کہ ریلوے کا نظام اس بات کی ایک علامت ہے کہ جدید انسان نے کس طرح نیچر کی طاقتوں کو دریافت کیا ہے اور اس کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے میری اس بے خبری کا نتیجہ صرف یہ تھا کہ اُس وقت کے رہنماؤں کی تقریروں اور تحریروں میں میرے لیے صحیح رخ پر سوچنے میں رکاوٹ بن گئیں۔
قوموں کو بنانے والے دراصل اُن کے رہنما ہوتے ہیں۔ رہنما حالات کا جس طرح مطالعہ کرتے ہیں اُسی طرح عوام اُن کا مطالعہ کرتے ہیں۔ عوام کی سوچ ہمیشہ اپنے رہنماؤں کی سوچ کے تابع ہوتی ہے۔ بہت کم ایسے خوش قسمت لوگ دنیا میں پیدا ہوئے ہیں جو رہنماؤں کی باتوں سے اوپر اٹھ کر سوچیں۔ جو خود اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعہ اپنی سوچ کا نقشہ بنائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues