تاریخ پرستی
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۴۰
۶۔ انسانی ٹی وی (نئی دہلی) نے ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اہنسا کے نظریہ سے تھا۔ جوابات میں بتایا گیا کہ اہنسا یا عدم تشدد فطرت کا ایک اصول ہے۔ اس دنیا میں پر امن طریق کار کے ذریعہ کام بنتے ہیں اور متشددانہ طریق کار کے ذریعہ کام بگڑ جاتے ہیں۔ اسلام میں تشدد کا استعمال صرف ناگزیر دفاع کے لیے جائز ہے۔ دفاع کے سوا کسی اور مقصد کے لیے تشدد ہرگز جائز نہیں۔ اسلام میں اصل اہمیت امن کی ہے۔
۷۔ انسانی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو مرکز میں آئی۔ اُس نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اہنسا (عدم تشدد) تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کی تمام تعلیمات عدم تشدد کے اصول پر مبنی ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت تشدد کو پسند نہیں کرتی۔ اس لیے اسلام میں بھی تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جارحیت کی صورت میں ناگزیر ضرورت کے طور پر دفاعی جنگ جائز ہے۔ جب پر امن طریق کار کا اصول قابل عمل ہو تو ہرگز تشدد کا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ اسلام میں گور بلاوار، پراکسی وار، اعلان کے بغیر دار اور جارحانہ وار یہ سب سراسر ناجائز ہیں۔
۸۔ ہرمن روبنگھ (Herman Robongh) ایک برطانی اسکالر ہیں۔ آج کل وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحت ریسرچ کر رہے ہیں۔ اُن کی ریسرچ کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی کا اصول تفسیر ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے اور مذکورہ موضوع پر تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا حمید الدین فراہی نے بعض پہلوؤں سے قرآن کی خدمت کی ہے مگر ان کا یہ کہنا کہ نظم قرآن فہم کی اصل کلید ہے، قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ یہ تصور نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، نہ صحابہ کے اقوال سے اور نہ مفسرین کے اصول تفسیر میں وہ ملتا ہے۔ مولانا فراہی کی یہ اجتہادی غلطی ہے کہ انہوں نے قرآن فہمی کے سلسلہ میں ایک جز کی پہلو کو بھی اہمیت دے دی۔
۹۔ دہلی پیس سمٹ (Delhi Peace Summit) کی طرف سے نئی دہلی میں چنشا مشن کے آڈیوریم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں انڈیا کے علاوہ باہر کے ملکوں کے لوگ شریک ہوئے۔ اُس کا موضوع انٹرفیتھ ڈائیلاگ تھا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس کے ۸ دسمبر ۲۰۰۳ کے سیشن میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات ہیں۔ ان کا فارمولا اسلام کی روشنی میں یہ ہے کہ ــ ایک کی پیروی کرو اور بقیہ کا احترام کرو؛ (Follow one and respect all) اگر بالفرض دو مذہبوں کے درمیان کسی وجہ سے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو اُس کو ہمیشہ امن کے دائرہ میں ہونا چاہیے۔ اُس کو کسی بھی حال میں یا کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues