Al-Risala · August 2004 · page 42

Religions in the Indic Civilisation

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۴۲

مسلمان یکساں بنیاد پر اس قومی اور جمہوری حکومت میں شریک ہیں۔

۱۳۔ ہندی روزنامہ دینگ بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسز جیندر کمار چودھری نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس میں ہندو۔ مسلم تعلقات اور انڈیا اور پاکستان کے تعلق کے حوالہ سے بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔ اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ برصغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر کوئی بھی صحیح معنوں میں تعمیری لیڈر پیدا نہیں ہوا جو مثبت معنوں میں کوئی گہرا کام کرے۔ آج ہم اسی کمی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے درست ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ علم کو صرف علم کے روپ میں دیکھنا چاہئے، علم کو ہندو اور مسلمان بنانا درست نہیں۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ہندو یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی دونوں سے ہندو اور مسلم کا لفظ نکال دیا جائے اور اُس کو صرف بنارس یونیورسٹی اور علیگڑھ یونیورسٹی کہا جائے۔

۱۴۔ بی بی سی لندن (bbc.co.uk) کی طرف سے مسٹر طفیل احمد کے دستخط سے ایک خط مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کے نام ملا۔ اس میں ایک مضمون کی فرمائش کی گئی تھی جس کو وہ بی بی سی لندن کے دیب سائٹ پر شائع کریں گے۔ یہ مضمون انگریزی میں ایک ہزار الفاظ میں مطلوب تھا۔ اُس کا عنوان یہ تھا: Relevance of Sufism in the Post-9/11 World خط میں کہا گیا تھا کہ مضمون میں یہ بتایا جائے کہ کیا صوفی ازم مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کو ختم کر سکتا ہے: If Sufism has the possibility to bridge the widening gulf between the Islamic world and the west. اس موضوع پر مطلوب مضمون تیار کر کے انہیں ۷ جنوری ۲۰۰۴ کو بھیج دیا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دوری نام نہاد سیاسی اسلام نے پیدا کی ہے اور صوفی اسلام بلاشبہ اس دوری کو ختم کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ صوفی ازم کو جدید تقاضوں کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اس آرٹیکل کو بی بی سی کی ویب سائٹ (bbc.co.uk) پر شائع کیا گیا۔ ۱۵۔ ست سری، نئی دہلی میں ۱۵ ہزار گز کے ایریا میں جدید طرز پر ایک ہولسک سنٹر (Holistic Centre) بنایا گیا ہے۔ اس کے چئرمین ڈاکٹر بی کے مودی ہیں۔ اس کے افتتاح کے طور پر ۲ جنوری ۲۰۰۴ کو بڑے پیمانہ پر اس کے ہال میں ایک فنکشن کیا گیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کے طور پر بلایا گیا ۔ وہاں مختلف مذہب کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے اسلام کے ریفرنس میں امن اور روحانیت کی اہمیت بیان کی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام مکمل معنوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page