۴۔ ہر حال میں خیر
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
اس فرق کی بنا پر مرد کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ عورت کو اپنی چیرہ دستی کا شکار بنا سکے۔ مگر خدا کے نزدیک یہ مرد کے لیے ایک امتحان کا پرچہ ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ جسمانی اعتبار سے قوی ہونے کے باوجود عورت کا پورا احترام کرے۔ خدا کی شریعت کا اُصول یہ ہے کہ شریف انسان وہ ہے جو کمزور کے مقابلہ میں شریف ثابت ہو۔ وہ انسان ایک کمینہ انسان ہے جو کسی کو کمزور پا کر اُس کو اپنی زیادتی کا نشانہ بنانے لگے۔
۴۔ ہر حال میں خیر
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی۔ (لایہ فرک مومن مومنة۔ ان کره منها خلقاً رضی منها آخر)
صحیح مسلم، کتاب الرضاع
فطرت کی تقسیم کا عام اُصول یہ ہے کہ کسی ایک عورت یا کسی ایک مرد کو ساری خوبیاں نہیں دی جاتیں۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو ایک خوبی زیادہ ملتی ہے تو دوسری خوبی میں اُس کے ساتھ کمی کر دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عورت کو اگر ظاہری جسمانی خصوصیات میں زیادہ حصہ ملا ہو تو داخلی خصوصیات میں وہ اُس نسبت سے کم ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک عورت داخلی سیرت میں زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو ظاہری صفات کے اعتبار سے وہ نسبتاً کم ہوگی۔ یہ فطرت کا ایک عام اُصول ہے جس میں بہت کم استثناء پایا جاتا ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں اسی فطری حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کسی مرد کی بیوی اگر ایسی ہو جو ظاہری صورت کے اعتبار سے زیادہ پرکشش نہ ہو تو اُس کو بدل ہونے کی ضرورت نہیں۔ فطرت کے قانون پر اعتماد کرتے ہوئے اُس کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ اُس کی بیوی سیرت کے اعتبار سے یقینی طور پر زیادہ بہتر ہوگی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حقیقی زندگی میں صورت کے مقابلہ میں سیرت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues