Al-Risala · September 2004 · page 52

عرب امارات کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۲

عرب امارات کا سفر

الہدیٰ انٹرنیشنل کی دعوت پر امارات کا سفر ہوا۔ یہ سفر ۵ مئی ۲۰۰۴ کو شروع ہوا اور ۱۰ مئی ۲۰۰۴ کو ختم ہوا۔ اس سفر میں مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات پیش آئے۔ یہاں اس سفر کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔

۵ مئی ۲۰۰۴ کی شام کو مسٹر رجت ملہوترا کے ساتھ نظام الدین سے ائر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ مسٹر رجت ایک بڑی کمپنی میں مینیجر ہیں۔ وہ خود اپنی گاڑی چلا رہے تھے۔ درمیان میں بار بار ان کے موبائل کی گھنٹی بجتی اور وہ اس پر بات کرتے رہتے۔ میں نے سوچا کہ قرآن میں جس دابـہ (النمل ۸۲) کا ذکر ہے وہ شاید یہی موبائل ہو۔ دابـہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا۔ دابـہ متکلم کا مطلب ہے، رینگ کر کلام کرنے والا۔ موبائل ٹکنالوجی نے پہلی بار یہ ممکن بنایا ہے کہ کوئی آدمی چل رہا ہو اور عین اسی وقت اس کا تکلم (conversation) جاری رہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دورِ آخر میں اللہ ایک دابـہ (رینگنے والی زمینی مخلوق) پیدا کرے گا۔ وہ بول کر لوگوں کو بتائے گا کہ لوگ خدا کی نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ دنیا میں ہزاروں سال سے خدا کی نشانیاں موجود تھیں۔ مگر یہ غیر ناطق نشانیاں تھیں۔ قدیم روایتی دور میں ستارے اور سیارے، دریا اور پہاڑ، غرض تمام مظاہرِ فطرت غیر ناطق انداز میں خدا کی نشانیوں کو بتا رہے تھے۔ اس کے بعد جب صنعتی دور آیا تو طرح طرح کی مشینوں نے خدا کی نشانیوں کو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ مگر یہ بھی غیر ناطق انداز میں تھا۔ آخر میں موبائل ٹیلی فون ظاہر ہوا۔ اس نے ہر جگہ انسانوں کے پاس پہنچ کر ان کو ناطق انداز میں خدائی قدرت کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ اس نے بتایا کہ تمہارے ارد گرد کیسی عجیب خدائی نشانیاں تھیں مگر تم اس سے سبق لینے میں ناکام رہے۔ دہلی کے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر رسمی کارروائیوں سے گزرنے کے بعد ہم انتظار گاہ میں پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page