عرب امارات کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۳
یہاں بہار (سیوان) کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ دبئی میں الکٹریشن کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انڈیا کے مقابلہ میں دبئی میں کتنے گنا زیادہ تنخواہ آپ کو ملتی ہے۔ انھوںنے کہا کہ تقریبا پانچ گنا۔ انھوں نے بتایا کہ دو سال میں ایک بار ہماری کمپنی انڈیا آنے کے لئے ٹکٹ کا انتظام کرتی ہے۔
دہلی سے ائر انڈیا کی فلائٹ نمبر اے ۷۲ سے روانگی ہوئی۔ دہلی سے دبئی کا فاصلہ ۲۲۰۰ کلومیٹر ہے۔ جہاز کے ذریعہ یہ فاصلہ سوا تین گھنٹہ میں طے ہوتا ہے۔ ائر پورٹ پر اور جہاز میں میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ جہاز دہلی سے دبئی کتنی دیر میں پہنچتا ہے۔ یہ لوگ وہ تھے جو دہلی سے دبئی بار بار سفر کرتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی صحیح وقت نہ بتا سکا۔ کسی نے کہا کہ دو گھنٹہ، کسی نے کہا کہ ڈھائی گھنٹہ، کسی نے کہا کہ ۳ گھنٹہ، کسی نے کہا کہ ۴ گھنٹہ۔ صحیح وقت کا علم مجھے صرف اس وقت ہو سکا جب کہ جہاز کے اناؤنسر نے اپنے روٹین کے اعلان میں اس کو بتایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے مخصوص پروفیشن کے سوا دوسری باتوں کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔
پرواز کے دوران ائر انڈیا کی فلائٹ میگزین نمسکار (اپریل، مئی ۲۰۰۴) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون پرتیمش نندی (Pritish Nandy) کے بارے میں تھا۔ وہ ہندوستان کے ایک معروف رائٹر ہیں۔ اب وہ فلم پروڈیوسر بن گئے ہیں۔ مضمون کے ساتھ ان کی ایک تصویر چھپی ہوئی تھی ۔ اس تصویر میں دکھائی دے رہا تھا کہ وہ اپنے دونوں پیروں کو پھیلا کر کھڑے ہوئے ہیں اور ان کے پیروں کے درمیان ان کا کُتّا زمین پر زبان نکالے ہوئے بیٹھا ہے۔ میرے مزاج کے مطابق، یہ ایک بد ذوقی کا فعل تھا۔ اس قسم کی چیزوں کو دیکھ کر اکثر میں سوچتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے اعلیٰ ذہن (top intellectuals) آخر اس قسم کی سطحیت کا کس طرح تحمل کرتے ہیں۔ ذاتی معلومات کے اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ تمام اعلیٰ ذہن کے لوگ ایک سنگین نفسیاتی مسئلہ سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور وہ تنہائی (loneliness) کا احساس ہے۔ اس تنہائی کی تلافی کے لئے وہ کتے کو اپنا ساتھی بنا لیتے ہیں جو بے زبان بھی ہے اور اسی کے ساتھ وفادار بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues