Al-Risala · September 2004 · page

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

کا اضافہ کر کے بات کو مکمل کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ کہی ہوئی بات کو صرف سننا کافی نہیں۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ آدمی کے پاس وہ مزید عقل ہو جس سے وہ کہی ہوئی بات کو اس کی پوری صورت میں سمجھ سکے۔ دبئی میں ایک علاقہ ہے جہاں امریکی لوگ رہتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں کے نظام میں کسی نہ کسی اعتبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بڑے بڑے دفتروں میں کام کرتے ہیں اور یہاں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ علاقہ بقیہ دبئی سے ممتاز طور پر مختلف ہے۔ دبئی کا شہر خود بھی شاندار شہر ہے۔ انڈیا کے لیے تو شائننگ انڈیا ایک لفظی نعرہ ہے۔ مگر دبئی کے لیے شائننگ دبئی ایک ایسی حقیقت ہے جس کو دیکھتے ہی آدمی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے۔

مگر جہاں تک دبئی کے امریکی علاقہ کا تعلق ہے وہ اتنا زیادہ شاندار ہے کہ خود امریکا میں بھی ایسی شاندار جگہ کم دیکھنے کو ملے گی۔ یہاں کے مسلمان اس امریکی علاقہ کی شان وشوکت کو دیکھ کر اس پر سخت اعتراض کرتے ہیں۔ میں نے ایک مقامی مسلمان سے کہا کہ موجودہ شکل میں آپ لوگوں کے اعتراض کے پیچھے صرف حسد کا جذبہ کام کر رہا ہے۔ مگر کسی حاسد کو اس قسم کے اعتراض کا کوئی حق نہیں کیوں کہ وہ خود بھی اپنے لیے یہی چاہتا ہے۔ اس پر اعتراض کا حق صرف اس شخص کو ہے جو خود اس قسم کی چمک والی دنیا کا خواہشمند نہ ہو۔ جو خالص آخرت کے جذبہ کے تحت اس کے بارہ میں بولے۔ جس کا اعتراض حسد کے جذبہ کا اظہار نہ ہو بلکہ صرف اس تڑپ کا اظہار ہو کہ لوگ کس طرح موت اور آخرت کو بھولے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ آخر کار محل والے اور جھونپڑی والے دونوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اس کو چھوڑ کر وہاں چلے جائیں نہ کسی کا محل اس کے کام آئے گا اور نہ کسی کا جھونپڑا۔ میں نے جب دبئی کے اس شاندار حصہ کو دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ ۱۹۳۶ میں انگریزوں نے نئی دہلی میں ایک شاندار دنیا بنائی جس کا مرکز وائس ریگل لاج تھا۔ یہ اب راشٹر پتی بھون کہا جاتا ہے۔ جب یہ شاندار علاقہ تعمیر ہوا تو اسی زمانہ میں فرانس کا ایک بڑا لیڈر ہندوستان آیا۔ اس نے اس کو دیکھ کر کہا انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے ، صرف اس لیے کہ وہ ایک دن اس کو چھوڑ کر چلے جائیں : What a magnificent world they built to leave.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page