Al-Risala · September 2004 · page

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

نے اس دعا کو ایک کاغذ پر پہلے لکھا اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ کیا۔ یہ کاغذ انہیں دے دیا گیا۔ وہ اتنا متاثر ہوئے جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیجئے۔ چنانچہ میں نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور ان کے لیے دعا کی۔

اس واقعہ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ پہلے ان کے ذہن میں جنت کا تصور مبہم (abstract) انداز میں تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جنت کیا چیز ہے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ جنت خدائے برتر کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے تو ان کے ذہن میں جنت کا ایک واضح تصور آگیا۔ یہ انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ خدا کائنات کا خالق ہے۔ وہ پھول جیسی خوبصورت چیزوں کو بنانے والا ہے۔ اس نے ستاروں اور سیاروں اور شمسی نظام کو وجود دیا ہے۔ اس نے جنگل اور پہاڑ اور دریا جیسی تمام چیزیں بنائی ہیں۔ جنت کو خدا کے ساتھ جوڑنے کے بعد انہوں نے اس کو سمجھ لیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ جنت خدائے عظیم و برتر کے پڑوس میں جینے کا نام ہے تو گویا انہیں ایک معلوم فریم ورک (framework) مل گیا جس کے نقشہ میں وہ جنت کو سمجھ سکیں۔ اب جنت ان کے لیے ایک قابل فہم (understandable) چیز بن گئی۔ یہ وہی چیز ہے جس نے ان کے رویہ میں فرق پیدا کر دیا۔

آج کی مجلس میں مولانا انیس لقمان ندوی نے ایک دلچسپ لطیفہ سنایا جو ایک دیہاتی عرب اور بچوں کے ایک ڈاکٹر (child specialist) کے درمیان عربی مکالمہ کی شکل میں یوں ہے: أعرابي : ما وظیفتک يا دكتور ؟ (ڈاکٹر، آپ کا پیشہ کیا ہے؟ )

(میں بچوں کا ڈاکٹر ہوں)

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

أعرابي : لِمَاذَا لَمْ تَسْتَكْمِلْ دِرَاسَتَكَ يا دكتور ؟ (ڈاکٹر صاحب آپ نے اپنی تعلیم مکمل کیوں نہیں کی؟ ) اس مثال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے کیا چیز ضروری ہے۔ وہ یہ کہ آدمی سنی ہوئی بات میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بات اپنے ظاہر کے اعتبار سے ادھوری ہوتی ہے۔ کسی بات کو مکمل طور پر وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو ذہنی اعتبار سے اتنا تیار ہو کہ وہ غیر مذکور پہلو

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page