Al-Risala · September 2004 · page 30

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

سنتے رہتے ہیں۔ دبئی میں میں اپنے ایک عزیز شکیل احمد خاں انجینئر کے گھر گیا۔ ان کی اہلیہ سلمہ نے بتایا کہ وہ روزانہ رات کو ڈاکٹر فرحت کے کیسٹ پابندی کے ساتھ سنتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ کا طریقہ گویا ایک دعوتی نعمت ہے۔ اس جدید طریقہ نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ داعی ایک مقام پر رہ کر ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکے۔

ڈاکٹر فرحت کا وزن کافی بڑھ گیا ہے، جب کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ زیادہ وزن طبی اعتبار سے اچھی چیز نہیں۔ آپ کو واک کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے میں اسلام آباد میں رہتی تھی۔ وہاں میں برابر واک کرتی تھی۔ اس وقت میرا وزن اتنا زیادہ نہ تھا۔ اب میں کراچی میں رہتی ہوں۔ کراچی میں گھر سے باہر نکلنا غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے میں نے کراچی میں واک کرنا بند کر دیا۔ اس کے بعد میرا وزن بڑھ گیا۔

میں نے کہا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے۔ پاکستان کے حامیوں کا یہ کہنا تھا کہ مسلمان متحد ہندوستان میں محفوظ نہیں رہ سکتے، اس لیے ہم کو پاکستان کی صورت میں ایک محفوظ علاقہ چاہئے اور اب یہ حال ہے کہ پاکستان خود مسلمانوں کے لیے غیر محفوظ ہو رہا ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے جو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ماضی کی سیاست پر نظر ثانی کریں۔

ایک عرب تاجر ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا قدیم وطن یمن تھا۔ ان کے باپ یمن کو چھوڑ کر دبئی آگئے اور اب ہم لوگ یہاں کے شہری ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی پیدائش یمن میں ہوئی یا دبئی میں۔ انھوں نے کہا: الحمد للہ، میری پیدائش دبئی میں ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ الحمد للہ کا کوئی صحیح استعمال نہیں۔ کیا ایسا ہے کہ آدمی اگر دبئی میں پیدا ہو تو یہ الحمد للہ کی بات ہے، اور اگروہ ہندوستان یا یمن جیسے کسی ملک میں پیدا ہو تو وہ الحمد للہ کی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ دبئی اور یمن اور ہندوستان سب خدا کے ملک ہیں۔ سب یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ پیدا ہونا یا زندگی کا ملنا تو ضرور الحمد للہ کی بات ہے، مگر ایک خطۂ زمین اور دوسرے خطۂ زمین میں فرق کرنا کوئی صحیح اسلامی ذہن نہیں۔ ایک غیر مسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میں نے روحانیت کے انداز میں کچھ باتیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page