ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
کہیں ۔ وہ میری باتوں کو سن کر متاثر نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں سچائی کا متلاشی (seeker) ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کو میں ایک دعا بتاتا ہوں ۔ آپ اس کو پابندی کے ساتھ روزانہ پڑھیں ۔ پھر میں نے یہ قرآنی دعا ایک کاغذ پر لکھی اور اس کو انہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اس دعا کو روزانہ پڑھیں۔ وہ دعایہ تھی: رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر (خدایا، جو خیر تو نے میری طرف اتارا، میں اس کا محتاج ہوں) انہوں نے کہا کہ میں اس دعا کو روزانہ پڑھوں گا۔
۹ مئی کو شارجہ ٹی وی میں انٹرویو تھا۔ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ میں وہاں پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ صاف ستھری سڑک کے کنارے خوبصورت آہنی فصیل کے اندر ایک بہت بڑی شاندار دنیا آباد ہے۔ اس کے اندر داخل ہوا تو اس کا ہر حصہ منظم اور ممتاز دکھائی دیا۔ شارجہ ایک بے حد چھوٹا ملک ہے اور ہندوستان اس کے مقابلہ میں بہت بڑا ملک ۔ مگر شارجہ کے مقابلہ میں دہلی کا ٹی وی اسٹیشن بہت معمولی نظر آتا ہے۔
شارجہ ٹی وی کے اسٹوڈیو میں دو انٹرویو ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں سے ہر ایک ۲۵ منٹ کا تھا۔ انٹرویور مولانا عبدالقیوم بستوی تھے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور امن کے موضوع سے تھا۔ میرے جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں جنگ ایک استثناء ہے، نہ کہ کوئی عمومی حکم۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لیے جائز ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی بہت سی شرطیں ہیں۔ مثلاً جنگ صرف ایک قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے، غیر حکومتی تنظیموں کے لیے جنگ کرنا جائز نہیں۔ ان کے لیے پر امن جد و جہد ہے، نہ کہ مسلح جہاد۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام میں گوریلا وار اور پراکسی وار قطعا حرام ہے۔ خود کُش بمباری بلا شبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسی طرح ایک جائز جنگ میں بھی صرف مقاتل پر حملہ کیا جاسکتا ہے، غیر مقاتل پر حملہ کرنا کسی حال میں جائز نہیں۔
اس پروگرام کے انتظامی ڈائرکٹر مسٹر خورشید احمد تھے۔ ان کو میری باتیں بہت پسند آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ہم نے آپ کا پروگرام بہت جلدی میں بنایا۔ آئندہ انشاء اللہ ہم آپ کا پروگرام زیادہ باقاعدہ صورت میں کریں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues