Al-Risala · September 2004 · page

‘‘The most things in life are not things.’’

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

کھانے پینے والے حیوانی بنا دیتی ہیں۔ ایسا سماج ایک قسم کا حیوان سماج ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں انسانی سماج۔

اس نقصان کی تلافی صرف ایک تھی اور وہ یہ کہ بیرونی مسلمان (Muslims in Diaspora) یہ کرتے کہ وہ ون مین ٹو مشن (one man two mission) کا طریقہ اختیار کر لیتے جیسا کہ اسلام کے دور اول میں صحابہ نے اختیار کیا تھا۔ یعنی اپنے وقت اور پیسہ کا نصف حصہ اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرنا اور اپنے وقت اور پیسہ کا بقیہ نصف حصہ دعوتی کام (dawah work) میں لگا دینا۔

اگر یہ مسلمان ایسا کرتے تو وہ نہ صرف ایک زیادہ بہتر تاریخ بناتے بلکہ خود اسلام کے لئے وہ ایک نئے تاریخی دور کے آغاز کا سبب بن جاتے ، جیسا کہ اصحاب رسول نے کیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب کی اکثریت عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں پھیل گئی۔ وہاں انھوں نے یہ کیا کہ وہ اپنی معاشی ضرورت کے لئے کوئی سادہ کام کر لیتے اور اپنے وقت اور اپنی طاقت کا بقیہ حصہ اسلام کے دعوتی عمل میں لگا دیتے۔ یہی موجودہ زمانہ کے ان مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو یہ اندیشہ ہے کہ ان کی دنیا بھی تباہ ہو جائے اور ان کی آخرت بھی۔ قرآنی الفاظ میں وہ، خسر الدنيا والآخرة کا مصداق بن کر رہ جائیں۔

۱۰ مئی ۲۰۰۴ کی صبح کو ہمارا جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ ایرپورٹ کی ضروری کارروائیوں کو انجام دینے کے بعد باہر نکلا تو مسٹر خالد انصاری وغیرہ موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر نظام الدین پہنچا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page