Al-Risala · September 2004 · page

‘‘The most things in life are not things.’’

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

غیرحکومتی تنظیموں کا حق ہرگز نہیں۔ غیر حکومتی افراد حکومت کی طلب پر اس کا ساتھ دے سکتے ہیں مگر وہ بطور خود مسلح جہاد نہیں چھیڑ سکتے۔ اس دوسری صورت میں مسلم عوام کے لیے پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ مثلاً اس نوعیت کی پرامن جدوجہد جو مہاتما گاندھی نے غیرمنقسم ہندوستان میں چلائی۔ مگر جہاں تک مسلح کارروائی کا تعلق ہے، جیسا کہ فلسطین وغیرہ میں کی جارہی ہے، وہ یقینی طور پر غیر اسلامی ہے۔ کیوں کہ ان مسلح کارروائیوں میں ٧ مسلم ملکوں میں سے کوئی بھی ملک اعلان کے ساتھ شریک نہیں۔ واضح ہو کہ حکومت کی بلا اعلان شرکت جس کو پراکسی وار کہا جاتا ہے، وہ اسلام میں سراسر ناجائز ہے۔

دہلی سے ٩ مئی ۲۰۰۴ کی شام کو واپسی ہوئی۔ یہ سفر ایرانیا کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز تیزی سے دہلی کی طرف آگے بڑھ رہا تھا۔ اور میرے ذہن میں خیالات کا طوفان امنڈ رہا تھا۔ ایک بات شدت سے ذہن میں گونج رہی تھی کہ جو مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر دبئی جیسی بیرونی جگہوں پر جا کر رہ رہے ہیں انہوں نے اس ’’ہجرت‘‘ سے کیا پایا اور کیا کھویا۔ غور کرنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ پانے کے اعتبار سے انہوں نے جو کچھ پایا وہ صرف پیسہ تھا۔ مگر کھونے کے اعتبار سے انھوں نے سب کچھ کھو دیا۔

آدمی جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں اس کی ایک مکمل تاریخ ہوتی ہے، ایک وہ تاریخ جو اس کو اپنے ماضی سے ملتی ہے، اور دوسری وہ تاریخ جو وہ خود اپنے عمل سے بناتا ہے۔ اس طرح اپنے وطن میں کسی آدمی کا وجود ایک بڑے درخت کی مانند ہو جاتا ہے جو اصلھا ثابت وفرعھا فى السماء (ابراہیم ۲۴)کامصداق ہوتا ہے، مگر اپنے وطن کے باہر اس کی حیثیت اس درخت کی مانند ہو جاتی ہے جس کو اپنی جڑ سے اکھاڑ کر کسی اور جگہ ڈال دیا گیا ہو۔ یہ لوگ اپنی ایک تاریخ سے کٹے اور دوبارہ نئے مقام پر اپنی دوسری تاریخ نہ بنا سکے۔ باہر کے ملکوں میں رہنے والے مسلمان دوسروں سے بالکل بے تعلق ہو جاتے ہیں۔ اس کی تلافی کے لئے وہ یہ کرتے ہیں کہ دعوتوں اور پارٹیوں کے نام پر ملنا جلنا بڑھا دیتے ہیں۔ مگر اس قسم کی سرگرمیاں صرف مزید نقصان کے ہم معنی ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو بس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page