شکستِ تاریخ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
ایک خط
برادر محترم عبدالسلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۸ جون ۲۰۰۲ کو میں دہلی کے ایک ٹی وی پروگرام میں تھا۔ یہاں میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین (۱۸۹۷ء۔ ۱۹۶۹ء) کے فین ہیں۔ آج کل وہ ان کی مشہور کہانی ’’ابو خاں کی بکری‘‘ کا ترجمہ انگریزی زبان میں کر رہے ہیں۔ اچانک میری زبان سے نکلا کہ وہ تو اسٹون ایج کی کہانی ہے۔ آج کے حالات میں اس کا کیاریلوئنس۔ اس پر وہ غصہ ہو گئے اور کہا کہ ابو خاں کی بکری تو ایک ادبی شاہکار ہے۔ اس کے اندر ایک ابدی پیغام ہے، وغیرہ۔
آپ نے شاید ڈاکٹر ذاکر حسین کی یہ کہانی پڑھی ہوگی۔ اس میں کہانی کے روپ میں آزادی اور بہادری کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ آزادی کے لیے بڑی سے بڑی طاقت سے لڑ جاؤ، خواہ اس راہ میں تم کو اپنی جان دینی پڑے ۔
کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ الموڑا کے ایک شخص، ابو خاں کی بکری آزادی کی تلاش میں اپنے مالک سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلی جاتی ہے۔ وہاں اس کو ایک بھیڑیا ملتا ہے۔ بکری خوب جانتی تھی کہ میں بھیڑیے کو نہیں مار سکتی مگر اس نے مقابلہ کا فیصلہ کیا۔ مقابلہ ضروری ہے، خواہ اس راہ میں جان دینی پڑے ۔ کہانی کے مطابق، بکری ساری رات بھیڑیے سے لڑتی رہی یہاں تک کہ وہ لہولہان ہو گئی۔ صبح ہوئی تو قریب کی مسجد سے مؤذن کی اللہ اکبر کی آواز آرہی تھی۔ بکری نے کہا کہ اللہ تیرا شکر ہے اور پھر وہ سخت زخمی ہو کر زمین پر گر گئی اور مر گئی۔ اس وقت پاس کے درخت پر کچھ چڑیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اکثر چڑیوں نے کہا کہ بھیڑیا جیت گیا۔ مگر ایک بوڑھی چڑیا نے کہا کہ نہیں، بکری کی جیت ہوئی۔ بکری کی یہ لڑائی بلاشبہ بے مقصد بھی تھی اور بے فائدہ بھی۔ کہانی کے مطابق، بظاہر اس لڑائی کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues