Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

کوئی واقعی مقصد نہ تھا۔ مزید یہ کہ اس لڑائی سے کوئی فائدہ نکلنے والا نہ تھا۔ کہانی اس لڑائی کا کوئی مثبت فائدہ نہیں بتاتی۔ گویا کہ یہ لڑائی برائے لڑائی تھی، اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی لڑائی کوئی قابلِ تعریف کام نہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھئے تو مذکورہ قسم کی لڑائی بکری کی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ کوئی بکری کبھی اس طرح بھیڑیے سے لڑ کر اپنی جان نہیں دیتی۔ بکری کا طریقہ بھیڑیے سے ٹکراؤ کو اوائڈ کرنا ہے نہ کہ جان بوجھ کر اس سے لڑ جانا۔ اس فرضی کہانی کو اس کے مصنف نے الموڑ اکے ایک واقعہ کے طور پر پیش کیا ہے مگر اس کا تعلق نہ حقیقت سے ہے اور نہ اسلام سے۔

کسی بکری نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ رات بھر بھیڑیے سے لڑے اور اس طرح جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کردے۔ کہانی کی مذکورہ بکری ڈاکٹر ذاکر حسین کی مفروضہ بکری ہے، وہ نہ کسی ابو خاں کی بکری تھی اور نہ خدا نے کبھی ایسی بکری کو پیدا کیا۔

اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھئے تو اس قسم کی لڑائی سراسر ناجائز ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، یہ تو ممکن ہے کہ کوئی شخص اچانک کسی طاقتور دشمن کی زد میں آجائے اور قتل کرنے والا اس کو قتل کردے۔ مگر جان بوجھ کر ایک ایسے دشمن سے ٹکرانا بلا شبہہ غلط ہے جس سے مقابلہ کرنے کی طاقت آدمی کے اندر نہ ہو اور جس کا یقینی نتیجہ یک طرفہ تباہی ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (تم اپنے دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور تم اللہ سے عافیت مانگو)۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کا ٹکراؤ خود کشی ہے اور خودکشی اسلام میں جائز نہیں۔ لوگ اکثر ایک مہلک غلطی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ بطورِ خود ایک مفروضہ ماڈل بناتے ہیں اور پھر اس مفروضہ ماڈل کے ذریعہ ایک ایسے عمل کو جسٹی فائی (justify) کرنے لگتے ہیں جو حقیقۃ قابل جواز (justifiable) نہیں۔ اس کی ایک مثال امام حسین کے معاملہ میں ملتی ہے۔ خطیبوں اور شاعروں نے امام حسین کا ایک خودساختہ ماڈل بنایا۔ وہ ماڈل یہ تھا کہ امام حسین نے اپنا سر کٹوا دیا مگر وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیار نہیں ہوئے :

سر داد گر نداد دست در دست یزید

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page