Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

سوال

میں الرسالہ دس سال سے پڑھ رہی ہوں اور آپ کی کئی کتابیں بھی پڑھ چکی ہوں۔ میں آپ کے مشن سے پورا اتفاق کرتی ہوں۔ آپ کی تحریریں پڑھنے سے پہلے میری سوچ یہ تھی کہ دنیا میں سب کچھ مال ودولت ہے۔ مگر آپ کی تحریریں پڑھنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ سب سے بڑی دولت عقل کا صحیح استعمال اور صبر ہے۔ آپ کی تحریروں میں صبر کی بہت اہمیت ہے۔ صبر سے وہ چیز ملتی ہے جو جلد بازی سے نہیں ملتی۔

میں ”الہدیٰ کراچی“ میں قرآن کی کلاسیں لینے جاتی ہوں۔ ہماری اُستاد ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ ہیں۔ قرآن کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیں آپ کی کتاب ”پیغمبر انقلاب‘‘ پڑھائی۔ یہ بہت اچھی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشن کو آگے لے جانے کی توفیق دے، آمین۔ اب سوال یہ ہے کہ دعوتِ اسلام کا کام میں کس طرح کر سکتی ہوں۔ کیا مجھے پہلے یہ کام اپنے گھر سے شروع کرنا چاہیے یا باہر جا کر لوگوں کو بتاؤں۔ دعوت کا اصل کام تو غیر مسلموں میں ہوگا۔ مگر گھر والے بھی تو صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ وہ مسلمان گھر میں پیدا ہو گئے۔ پہلے اپنی اصلاح، پھر گھر والوں کی اصلاح، پھر گھر سے باہر دوسرے لوگوں کی۔ دوسرا سوال یہ کہ دین و دنیا میں کس طرح بیلینس (balance) قائم کیا جائے ۔ جب سے دین کی طرف رجحان ہوا ہے دنیا سے بے رغبتی ہونے لگی ہے۔ مگر دنیا کو چھوڑنا بھی صحیح نہیں ہے۔ میں کنفیوزڈ رہتی ہوں کہ کس سے ملوں اور کس سے نہ ملوں۔ کہاں جاؤں اور کہاں نہ جاؤں۔ (فرزانہ فیصل، کراچی)

جواب

۱۔ دین کا کام مسلم اور غیر مسلم دونوں کے درمیان کرنا ہے۔ تاہم دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔ مسلمانوں کے درمیان کیے جانے والے کام کا عنوان اصلاح ہے، اور غیر مسلموں کے درمیان کیے جانے والے کام کا عنوان دعوت ہے۔ یہ دونوں ہی کام ضروری ہیں۔ ہمیشہ اور ہر حال میں دونوں کام کو ایک ساتھ انجام دیا جائے گا۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پہلے مسلمانوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page