سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
اصلاح کی جائے گی اور اس کے بعد غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ کا کام کیا جائے گا۔ میرے نزدیک اس قسم کا قول خدا کے احکام کو بدلنے کے ہم معنی ہے۔ کچھ لوگ ایسا تو کر سکتے ہیں کہ وہ دین کے حکم پر عمل نہ کریں۔ مگر یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ خود حکم کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم کسی بھی شخص یا گروہ پر جو ذمہ داری ہے وہ اس کی استطاعت کے بقدر ہے۔ آپ کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے لیے ایک کام کا انتخاب کریں اور اپنی طاقت کے بقدر اس کی انجام دہی میں لگ جائیں۔ اور بقیہ کام کے لیے یہ اعتراف کریں کہ اپنے حالات کے اعتبار سے ہم اُس کو نہیں کر سکتے۔ مثلاً آپ اگر مسلمانوں کی اصلاح کے کام میں مشغول ہوں تو آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ غیر مسلموں میں دعوتی کام بھی اگرچہ یکساں طور پر ضروری ہے۔ مگر عدم استطاعت کی بنا پر میں اس کو نہیں کر سکتی۔ اس کے برعکس اگر آپ یہ کہنے لگیں کہ ابھی تو ہمیں مسلمانوں کی اصلاح کرنا ہے۔ جب مسلمانوں کی اصلاح ہو چکی ہوگی تو اس کے بعد غیر مسلموں میں دعوت کا کام کیا جا سکتا ہے۔ یا یہ کہ پہلا کام اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد ہی غیر مسلموں میں دعوت کا کام کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی بات کہنا میرے نزدیک سخت گناہ کی بات ہے۔ کیوں کہ وہ احکام دین میں تبدیلی کے ہم معنی ہے۔
۲۔ مادی دنیا میں بے رغبتی ایک اچھی علامت ہے۔ اس کو حدیث میں زہد فی الدنیا کہا گیا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مادی دنیا کو چھوڑ دیا جائے۔ مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ مادی دنیا کو اپنا مقصدِ حیات نہ بنایا جائے۔ مادی دنیا ہماری ضرورت ہے، وہ ہمارا مقصد نہیں۔
اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ متقیانہ شخصیت کی تعمیر ہے۔ یہ عمل دنیا کے اندر رہتے ہوئے انجام پاتا ہے، نہ کہ دنیا کو چھوڑ کر۔ جنت میں صرف اُسی عورت یا مرد کو داخلہ ملے گا جس نے دنیا میں اپنے اندر متقیانہ شخصیت کی تعمیر کی۔ تعمیر کا یہ کام تمام تر مادی دنیا کے اندر رہ کر انجام پاتا ہے، وہ کسی علیحدہ مقام پر انجام نہیں پاتا۔ مادی سرگرمیوں کے دوران جو مختلف تجربات پیش آتے ہیں، اُن تجربات اور مشاہدات سے رزقِ رب کی غذا لیتے رہنا، یہی اصل مومنانہ زندگی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues